پاکستان نیوی کے شعبہ تعلقات عامہ (ڈی جی پی آر) کے مطابق پاک بحریہ کا جہاز پی این تبوک کمبائنڈ میری ٹائم فورس (CMF) کا حصہ ہونے کے ناطے سعودی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 کے ساتھ علاقائی سمندری سیکیورٹی گشت پر مامور تھا۔ دورانِ گشت پی این تبوک نے بحیرۂ عرب میں ایک مشکوک کشتی کو روکا جس پر بڑی مقدار میں منشیات لادی گئی تھی۔

ترجمان کے مطابق کشتی کی تلاشی کے دوران دو ہزار کلوگرام سے زائد آئس برآمد کی گئی۔ پاک بحریہ نے اسے حالیہ ہفتوں میں منشیات کے خلاف اپنی مسلسل تیسر ی بڑی کامیابی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں سمندر میں غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان نیوی کے ’پختہ عزم‘ کی عکاس ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ آپریشن کی جسامت اور اس کی کامیاب تکمیل نہ صرف پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو ظاہر کرتی ہے  بلکہ سی ایم ایف کے تحت بین الاقوامی تعاون کی افادیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ پاکستان نیوی نے عزم ظاہر کیا کہ قومی بحری مفادات کے تحفظ اور عالمی سمندری سکیورٹی کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پاک بحریہ کے جہاز پی این یارموک نے بحیرۂ عرب میں 97 کروڑ 20 لاکھ ڈالر زسے زائد مالیت کی منشیات پکڑی تھیں۔

اگست میں پاک بحریہ اور اینٹی نارکوٹکس فورس نے پسنی کے ساحل کے قریب کارروائی کرتے ہوئے تقریباً تین کروڑ 80 لاکھ ڈالرز مالیت کی منشیات برآمد کی تھی۔

دوسری جانب انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف حصوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار اور مجموعی طور پر 390.52 کلوگرام منشیات برآمد کر لی، جن کی مالیت 46 کروڑ 53 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔

قراقرم ہائی وے، مانسہرہ کے قریب ایک ملزم سے 400 گرام چرس برآمد؛ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فروخت کرتا تھا۔

کراچی میں ایک کوریئر آفس سے برطانیہ بھیجے جا رہے پارسل میں لیڈیز پرس میں چھپائی گئی 124 گرام ہیروئن بھی برآمد کر لی گئی ہے۔اسی طرح لاہور کے خیابانِ فردوسی روڈ پر ہسپتال کے قریب کارروائی کے دوران ملزم سے دو کلوگرام آئس پکڑی گئی۔

پشاور کے حیات آباد کوریئر آفس میں ساہیوال بھیجے جانے والے پارسل سے ٹارچ اور میکر میں چھپائی گئی ایک  کلوگرام آئس برآمد کی گئی اور ضلع پشین کی تحصیل اعلیٰ زئی میں کارروائی کے دوران 387 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی۔

اے این ایف کے مطابق تمام مقدمات انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔