میرپور سٹی کے حلقہ ایل اے 3 میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ راولاکوٹ اور میرپور کے بارے میں ایک وفاقی وزیر کے بیان پر حکومت کو فوری معافی مانگنی چاہیے یا متعلقہ وزیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ میرپور اور راولاکوٹ کشمیر کا حصہ ہیں یا نہیں، کشمیر پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے، ان لوگوں کے ساتھ نہیں جو کشمیر مخالف بیانات دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جلسہ کیا لیکن کسی نے بھی اپنے وزیر کے بیان کی مذمت نہیں کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔
لائیو: پاکستان پیپلزپارٹی کا آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی مہم کے سلسلے میں میرپور میں جلسہ عام https://t.co/nf64Pq5eRu
— PPP (@MediaCellPPP) July 22, 2026
بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ایسے بات کرتے ہیں جیسے ان کے والد کبھی وزیراعظم نہ رہے ہوں اور نہ ہی ان کے چچا وزیراعلیٰ پنجاب رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ قصور کو لاہور نہیں بنا سکے، وہ گلگت بلتستان کو لاہور بنانے کے دعوے کرتے رہے، مگر گلگت بلتستان کے عوام نے ان کے وعدوں پر یقین نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایسے دعوے کرتی ہے جیسے پنجاب کے ہر علاقے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں، حالانکہ چولستان، پوٹھوہار، راجن پور اور وہاڑی سمیت کئی علاقے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) آئین میں ترمیم کر کے آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب کا اختیار عوام سے چھیننا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں کہ رائیونڈ کا ایک شہری، جو چار مرتبہ پاکستان کا وزیراعظم رہ چکا ہے، آزاد کشمیر کا بھی وزیراعظم بن جائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے، اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں۔ احتجاج جب پرامن نہیں رہتا تو نقصان ہوتا ہے، لیکن جیسے احتجاج کرنے والے عوام کو سزا دے رہے ہیں، ویسے ہی ریاست بھی عام شہریوں کو سزا دے رہی ہے۔
“ہم نفرت اور تقسیم کی سیاست نہیں کرتے کیونکہ ہم پاکستان پیپلز پارٹی ہیں جو لوگ سمجھتے ہیں کہ بارہ سیٹیں ان کی جیب میں ہیں، آپ 27 جولائی کو ان کو یہ دیکھائیں گے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے لوگ کرتے ہیں کشمیر کا فیصلہ ان کی جیب میں نہیں ہے۔”
— PPP (@MediaCellPPP) July 22, 2026
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو… pic.twitter.com/zLMmSlniKT
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے دور میں ایک فرد کے جرم کی سزا پورے گاؤں کو دی جاتی تھی، آج آزاد کشمیر میں بھی یہی صورتحال نظر آ رہی ہے، جہاں عوام انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جو سراسر ظلم ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میرپور سے ان کا تعلق آج کا نہیں بلکہ تین نسلوں پر محیط ہے اور یہاں آ کر انہیں اپنے دوسرے گھر کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے یہ انتخابات معمول کے انتخابات نہیں بلکہ شاید تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں، جن پر خطے کا مستقبل منحصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا، جب کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی قائد عوام کا تحفہ ہے۔ اسی طرح صدر آصف علی زرداری نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان کے عوام نے حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقوق کے منشور پر اعتماد کیا، اسی طرح وہ یہی منشور آزاد کشمیر کے عوام کے سامنے بھی پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بھی وہی آئینی، سیاسی اور معاشی حقوق حاصل ہوں جو پاکستان کے دیگر شہریوں کو میسر ہیں۔
“جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ سزا ریاست پاکستان یا ریاست جموں و کشمیر کو نہیں دے رہے بلکہ وہ ریاست کی غلطیوں کی سزا آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو دے رہے ہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میرپور والوں کی، کشمیر کے عوام کی کیا غلطی ہے جو اس احتجاج کی وجہ سے کشمیر کے عوام کی زندگی میں… pic.twitter.com/7g6XRfduJC
— PPP (@MediaCellPPP) July 22, 2026
انہوں نے کہا کہ حقِ حاکمیت اور حقِ ملکیت صرف 12 نشستوں کا معاملہ نہیں بلکہ پورے آزاد کشمیر کے عوام کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مہاجرین کے ووٹ کے حق کے خلاف نہیں، مہاجرین ووٹ بھی دیں اور انتخابات بھی لڑیں، لیکن آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا منتخب نمائندہ ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کی آواز بنے، جب کہ آزاد کشمیر کی نمائندگی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی ہو۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی روزگار دینے پر یقین رکھتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے اندر اور بیرون ملک لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا، جب کہ بے نظیر بھٹو کہا کرتی تھیں کہ اگر روزگار دینا جرم ہے تو وہ یہ جرم بار بار کریں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر خطے میں جنگ کا سلسلہ جاری رہا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا، ایسے حالات میں ملک کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے، اور یہ کام صرف پاکستان پیپلز پارٹی ہی کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے قوموں کو مضبوط بناتا ہے، کمزور نہیں۔ موجودہ بحران کے حل کے لیے انہوں نے ٹروتھ کمیشن کے قیام کی تجویز دی تھی تاکہ حقائق سامنے آئیں، مجرم کو سزا ملے اور بے گناہ محفوظ رہے، تاہم اب تک کسی فریق نے اس تجویز پر کوئی جواب نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس اس سے بہتر حل موجود ہے تو وہ قوم کے سامنے لایا جائے، ورنہ ان کی تجویز پر عمل کر کے مسائل کا حل نکالا جائے۔






