پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے منصورہ کا دورہ کیا اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ سیاسی جماعتوں میں ہمیشہ بات چیت ہوتی رہتی ہے، اختلافات بھی ہوتے ہیں اور اتحاد بھی بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے لیے سی این جی اور گندم کی فراہمی بند کی گئی تو تمام سیاسی جماعتیں صوبے کے مسئلے پر اکٹھی ہوئی تھیں اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے وفاق سے اپنا حق حاصل کیا گیا۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ جنگی حالات کے دوران خیبرپختونخوا میں سی این جی کی فراہمی بند ہوئی، تاہم صوبے کے مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر وفاق سے بات کی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت سکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور صوبے میں دہشت گردی بھی موجود ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا اور پاٹا پر عائد کیا گیا ٹیکس واپس لیا جائے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ڈی چوک جانے کی بات کی گئی ہے، تاہم یہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل احتجاج کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے دن اس امید پر انتظار کیا کہ شاید وفاق کی جانب سے کوئی وفد جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے لیے جائے، کیونکہ ہمارا ایسا کوئی مسئلہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم دنیا کے مختلف معاملات میں سمجھوتے اور مذاکرات کروا رہے ہیں، اس لیے جماعت اسلامی کے ساتھ بھی بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کی آواز صدر مملکت اور وزیراعظم تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وہ جماعت اسلامی کے دھرنے میں پہنچے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیاسی کارکن چاہے کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، وہ ملک کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جماعت اسلامی کے وکیل بن کر اسلام آباد میں اس کا مقدمہ لڑیں گے اور مل بیٹھ کر جماعت اسلامی کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔