پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 31 جنوری کو ’فتنہ الہندوستان‘ سے وابستہ دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

جاری کردہ بیان کے مطابق گوادر اور خاران میں حملوں کے دوران خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت 18 شہری شہید ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 31 جنوری کو ہونے والے کلیئرنس آپریشنز میں 92 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا، جب کہ ایک روز قبل پنجگور اور ہرنائی میں 41 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن اور فالو اَپ آپریشنز تاحال جاری ہیں اور ان حملوں میں ملوث منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں ’آپریشن ہیروف 2.0‘ قرار دیا ہے۔ یہ تنظیم اس سے قبل اگست 2024 میں بھی صوبے بھر میں اسی نوعیت کے مربوط حملے کر چکی ہے، تاہم کوئٹہ میں مختلف حساس مقامات کو بیک وقت نشانہ بنانے کا یہ پہلا بڑا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق کوئٹہ میں حملوں کا آغاز ہفتے کی صبح تقریباً چھ بجے ہوا، جب درجنوں مسلح افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس تھانوں، ایف سی چیک پوسٹوں اور سکیورٹی چوکیوں پر ایک ساتھ حملے کیے۔

اس کے علاوہ سریاب روڈ، میاں غنڈی، مستونگ روڈ اور سریاب کسٹم سمیت بلوچ اکثریتی علاقوں میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ابتدائی حملوں کے بعد کارروائیاں زرغون روڈ، ریڈ زون کے اطراف اور ریلوے اسٹیشن کے قریب تک پھیل گئیں، جہاں پولیس، ایف سی اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

وائٹ روڈ، جمالی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں بھی جھڑپیں رپورٹ ہوئیں۔ مسلح افراد نے بعض عمارتوں کی چھتوں پر مورچے سنبھال کر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

سریاب تھانے کے قریب گشت پر موجود پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کو آگ لگ گئی اور دو اہلکار موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ چھاؤنی اور ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے، جبکہ سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔

ساڑھے نو بجے کے قریب زرغون روڈ پر ہاکی چوک کے مقام پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار شہید ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ انتہائی شدید تھا، جس سے ایک کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، جبکہ سول سیکریٹریٹ، سول ہسپتال اور دیگر عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

مشرقی بائی پاس میں مسلح افراد نے پولیس تھانہ خالق شہید اور نیو پولیس لائن پر حملہ کر کے سرکاری ریکارڈ اور سامان کو نذر آتش کیا۔ اس دوران راکٹ گولہ ایک رہائشی مکان پر گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔

اسی طرح نیو سریاب تھانے، پولیس ٹریننگ کالج اور اے ٹی ایف کمپلیکس کو بھی راکٹ لانچرز اور دستی بموں سے نشانہ بنایا گیا۔

ہزار گنجی کے علاقے میں شالکوٹ تھانے پر حملے کے بعد مسلح افراد نے پانچ بینکوں بشمول فیصل بینک، میزان بینک، نیشنل بینک، بینک اسلامی اور بینک الفلاح پر فائرنگ اور راکٹ حملے کیے۔ بعد ازاں ہجوم کے داخل ہونے سے بینکوں کا فرنیچر اور دیگر سامان لوٹ لیا گیا، تاہم لاکرز میں موجود رقوم محفوظ رہیں۔

سی ٹی ڈی کے مطابق سریاب کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کے دوران چار مزید عسکریت پسند مارے گئے، جن کے قبضے سے اسلحہ، دستی بم اور کالعدم تنظیم کا لٹریچر برآمد ہوا۔

مستونگ میں مسلح افراد کے حملے کے بعد 27 قیدیوں کے فرار ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جب کہ مچھ میں ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ میں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، انٹرنیٹ سروس معطل اور ریلوے ٹریفک عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق صوبے بھر میں امن و امان کی بحالی تک سکیورٹی آپریشنز جاری رہیں گے۔