ذرائع کے مطابق پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس پر مشتمل مشترکہ فورسز صوبے کے مختلف حساس اور دشوار گزار علاقوں میں مربوط کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ، ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور علاقے میں دیرپا امن قائم کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ آپریشنز کے دوران دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کی گئیں، جن میں پہاڑی علاقوں اور دیگر چھپنے کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائیوں کے نتیجے میں مزید 9 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ متعدد مشتبہ ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی تعداد 52 ہو چکی ہے، جبکہ 5 جولائی سے جاری مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) اور آپریشن شعبان کے دوران مجموعی طور پر 88 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران جدید نگرانی کے نظام، انٹیلی جنس معلومات اور زمینی فورسز کے باہمی تعاون سے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے، جس کے باعث متعدد علاقوں میں دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں: معرکۂ حق کی شکست دشمن سے ہضم نہیں ہو رہی، آخری فسادی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی، وزیراعظم
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز پُرعزم ہیں۔ اسی مقصد کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں سرچ، کلیئرنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جا رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ بلوچستان میں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا، جبکہ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ صوبے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔







