حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عوامی مقامات پر چہرہ ماسک، مفلر، اسکارف یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے ڈھانپنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاکہ سیکیورٹی اداروں کو شناخت کے عمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
صوبائی حکومت نے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، پولیس حکام اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ داخلہ کے ترجمان بابر یوسفزئی نے کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد موٹر سائیکل پر ڈبل سواری اور چار سے زائد افراد کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی ادارے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سمیت دشمن عناصر کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔
بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا کارروائی کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہیں، جب کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات صوبے میں ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر مذہبی اجتماعات، سیاسی ریلیوں اور دیگر بڑے اجتماعات پر پابندی کا اطلاق ہوگا، جبکہ شادی بیاہ اور دیگر خاندانی تقریبات کے دوران بھی حکومتی پابندیوں کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر مکمل عمل کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور حالات بہتر ہونے پر انہیں فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ تاہم اس دوران شہریوں کو معمولاتِ زندگی جاری رکھتے ہوئے سیکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے اس اقدام کو مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر قدم قرار دیا ہے، جبکہ بعض حلقوں نے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔






