نجی سرکاری ادارے پی ٹی وی کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائی دہشتگردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے جاری آپریشنز کا حصہ تھی، ہلاک دہشتگرد پہاڑی غار میں پناہ لیے ہوئے تھے، جن پر فضائی نگرانی کے ذریعے مسلسل نظر رکھی جارہی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے موزوں وقت پر دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چھ دہشتگرد مارے گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی فورسز اور خفیہ اداروں کی بہترین ہم آہنگی اور مؤثر رابطے کا نتیجہ ہے۔ فورسز کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی آپریشنز جاری رہیں گے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشتگرد پاکستان کے امن اور یکجہتی کے دشمن ہیں، ان کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ پاکستان کی سرزمین سے فتنۃ الہندوستان کا خاتمہ کرکے دم لیا جائے گا اور انڈین حمایت یافتہ دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنائے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: حکومت سندھ کی امن پالیسی: کچے کے 72 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کرلی
ادھر چند روز قبل بنوں کے مغل کوٹ سیکٹر میں بھی سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے دہشتگرد طارق کچھی اور اس کے ساتھی حکیم عرف ٹائیگر کو ہلاک کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق فتنۃ الخوارج گروہ کے دہشتگردوں سے بھارتی ساختہ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا، جب کہ طارق کچھی کی تشکیل گزشتہ دو سال سے دہشتگردی اور بھتہ خوری کی سرگرمیوں میں ملوث تھی۔







