بلوچستان کے مشیر برائے امور داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق صوبائی وزیر علی مدد جتک کی قیادت میں حکومتی وفد نے کسان اتحاد کے صدر خالد حسین باٹھ سے ملاقات کی، جس میں رکن بلوچستان اسمبلی میر جہانزیب مینگل بھی شریک تھے۔ مذاکرات کے دوران کسان رہنماؤں کے زرعی شعبے سے متعلق مطالبات اور دیگر تحفظات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
حکومتی وفد نے کسان اتحاد کو یقین دہانی کرائی کہ کاشتکاروں کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر متعلقہ فورمز پر زیر غور لایا جائے گا۔ حکومتی یقین دہانی کے بعد خالد حسین باٹھ نے لانگ مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
بابر یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال اور امن و امان کے خدشات کے پیش نظر حکومت نے کسان اتحاد سے احتجاج مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جسے کسان قیادت نے قبول کرلیا۔ ان کے مطابق حکومت اور کسان نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کو کاشتکاروں کے مسائل کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے بھی لانگ مارچ مؤخر کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان کی درخواست اور یقین دہانی پر مارچ کو مؤخر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کی آئندہ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ کسان اتحاد نے اس سے قبل 25 ستمبر کو کوئٹہ پریس کلب سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے کسانوں کے قافلے مارچ میں شامل ہوں گے اور اسلام آباد پہنچ کر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔
لانگ مارچ کے اعلان سے قبل خالد حسین باٹھ نے پریس کانفرنس میں کسانوں اور زمینداروں کو درپیش مختلف مسائل پر تشویش کا اظہار کیا تھا، زرعی شعبہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیداواری لاگت نے کاشتکاروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
کسان اتحاد کی جانب سے گندم کی خریداری اور قیمتوں، زرعی اخراجات، بجلی اور دیگر پالیسی معاملات سمیت مختلف مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔ کسان رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ زرعی شعبے کی مشکلات کا براہ راست اثر ملکی غذائی ضروریات اور عام صارفین پر بھی پڑتا ہے۔
خالد حسین باٹھ نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے صوبے میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے اور زراعت کو ترقیاتی ترجیحات میں زیادہ اہمیت دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا، بلوچستان میں بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہے، اس لیے کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔
کسان اتحاد کے رہنما نے پنجاب کی زرعی پالیسیوں پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے متعلق مختلف مطالبات سامنے رکھے تھے، کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی اور وفاقی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں موجودہ امن و امان کی صورتحال بھی لانگ مارچ کے راستے میں ایک اہم عامل رہی۔ خالد حسین باٹھ کے مطابق بلوچستان حکومت نے سیکیورٹی صورتحال کے باعث مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد کسان اتحاد نے حکومتی یقین دہانی قبول کرتے ہوئے قافلے واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔
حکومت بلوچستان اور کسان اتحاد کے درمیان مذاکرات کے بعد فی الحال اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ اور دھرنا مؤخر ہوگیا ہے، تاہم کسان قیادت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کی نئی تاریخ بعد میں طے کی جائے گی۔ اس طرح آئندہ کا لائحہ عمل حکومت اور کسان نمائندوں کے درمیان ہونے والی مزید پیش رفت سے منسلک رہے گا۔







