پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ آپریشن 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ہرنائی کے نواحی علاقوں میں اس وقت شروع کیا گیا جب مستند انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئیں کہ دہشتگرد عناصر معصوم شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں دہشتگرد ٹھکانوں پر کامیاب کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران بھارتی پراکسی نیٹ ورکس سے منسلک 41 دہشتگرد مارے گئے۔ اس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ریاست مخالف سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کے لیے مختلف علاقوں میں کلیئرنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا دائرہ وسیع کیا۔
بیان کے مطابق آپریشن ردّ الفتنہ-1 کے دوران پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں انجام دیں، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور آپریشنل صلاحیت کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا گیا۔
Security forces have successfully concluded Operation Radd-ul-Fitna-1 in Baluchistan.
— Media Talk (@mediatalk922) February 5, 2026
Pakistan Zindabad.@AmirSaeedAbbasi @KulAalam #Pakistan pic.twitter.com/gXkiylSF3t
کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں غیر ملکی ساختہ اسلحہ، گولہ بارود، دھماکا خیز مواد اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے۔ ابتدائی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشتگردوں کو بیرونی سطح پر مالی، فنی اور لاجسٹک معاونت حاصل تھی۔
تاہم آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس طویل اور پیچیدہ آپریشن کے دوران 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شہید ہوئے، جبکہ 22 بہادر سیکیورٹی اہلکار وطن کی حفاظت اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر جامِ شہادت نوش کر گئے۔ آئی ایس پی آر نے ان قربانیوں کو افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور قربانی کی اعلیٰ روایات کا مظہر قرار دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں حکومتِ پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری رہیں گی اور ملک دشمن عناصر کے آخری ٹھکانے تک سیکیورٹی فورسز کا تعاقب جاری رہے گا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیاب تکمیل پر پاک فوج، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ بروقت اور مؤثر کارروائی سے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خراجِ عقیدت اور ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی آپریشن ردّ الفتنہ-1 کی کامیاب تکمیل پر افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 216 دہشتگردوں کا خاتمہ سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور عزم کا ثبوت ہے۔
انہوں نے خواتین اور بچوں سمیت 36 شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے 22 شہید سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آپریشن ردّ الفتنہ-1 میں کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا انجام عبرتناک موت کے سوا کچھ نہیں، سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں نے بلوچستان میں بدامنی کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔
انہوں نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے اور دہشتگردی کے ہر خطرے کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
سیاسی و سیکیورٹی ماہرین کے مطابق آپریشن ردّ الفتنہ-1 بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے اور یہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان تشدد کے بجائے امن، انتشار کے بجائے اتحاد اور دہشتگردی کے بجائے ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔







