آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج کے انڈین حمایت یافتہ عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سات دہشت گرد مارے گئے۔

ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا جو وہ علاقے میں مختلف تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ آپریشن کے بعد علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے انڈین سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گرد عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے قوم کے عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر معصوم شہریوں کی جان و مال کے نقصان کے ذمہ دار تھے اور ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔ دہشت گردی کی جڑ اکھاڑ پھینکی جائے گی اور ملک کی سرزمین اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔


یاد رہے کہ اس سے قبل آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ یکم اکتوبر کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران تیرہ دہشت گرد مارے گئے اور چار کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں خضدار میں خواتین کا روپ دھار کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دہشت گرد بھی شامل تھے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق اگست 2025 گزشتہ 10 برسوں کا سب سے خونریز مہینہ ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اس مہینے کے دوران 143 حملوں میں 154 افراد جاں بحق اور 241 زخمی ہوئے۔ عسکریت پسندوں نے گھات لگا کر حملے کرنے، ٹارگٹ کلنگ، بارودی سرنگیں اور دستی بم استعمال کرنے جیسے طریقے اختیار کیے۔

واضع رہے کہ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے اگست میں ملک بھر میں 41 کارروائیاں کیں جن میں سو سے زائد دہشت گرد مارے گئے اور 31  کو گرفتار کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔