سماعت کے دوران علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دوبارہ گنتی کا عمل مکمل طور پر قانونی اور درست تھا۔ ان کے مطابق دوبارہ گنتی ایک انتظامی عمل ہے، نہ کہ عدالتی کارروائی، اور الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کا استعمال قانون کے مطابق کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے معاملہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 95(6) کے تحت دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا تاکہ قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو درست تسلیم کیا جائے۔
اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد اگر الیکشن ٹریبونل نے اپنا پہلا فیصلہ برقرار رکھا تو کیا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں؟
دوسری جانب صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اب بھی فارم 47 موجود ہے، جس کے مطابق صالح بھوتانی نے 30 ہزار 910 ووٹ حاصل کیے جبکہ علی حسن زہری کو 17 ہزار ووٹ ملے۔
خواجہ حارث کے مطابق دوبارہ گنتی کے بعد صالح بھوتانی کے 13 ہزار 507 ووٹ کینسل کر دیے گئے، حالانکہ دوبارہ گنتی کی درخواست میں صرف خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولنگ کے روز حالات غیر معمولی تھے، لڑائی جھگڑے ہوئے، سڑکیں بند ہو گئیں، اور ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی، مگر تاحال چالان پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ریٹرننگ افسر نے اس صورتحال کے بارے میں الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا، جس پر عدالت نے پوچھا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو الیکشن ایکٹ کے تحت دوبارہ گنتی کا قانونی طریقہ کار کیا ہوگا۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ دوبارہ گنتی ممکن ہے اور اس دوران 10 ہزار 577 ووٹوں کا اضافہ بھی ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی گنتی میں 76 ہزار ووٹ نکلے جبکہ دوبارہ گنتی میں ووٹوں کی تعداد بڑھ کر 87 ہزار ہو گئی۔
علی حسن زہری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ معاملہ 39 پولنگ اسٹیشنز سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق دوبارہ گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا، جسے دونوں فریقین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، اور عدالت کے اس فیصلے کا انتظار صوبے اور ملک بھر میں سیاسی حلقوں میں جاری تنازع کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔







