یہ مرکز بی این بی گروپ اور الخدمت فاؤنڈیشن کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت قائم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے 12 ستمبر کو کراچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔
دوسری جانب الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے ملک گیر پروگرام ’بنو قابل‘ کے تحت لورالائی میں ایک آئی ٹی لیب بھی قائم کر دی گئی ہے۔
اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔
لورالائی میں آئی ٹی لیب کا افتتاح جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور صوبائی اسمبلی کے رکن مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے جماعت اسلامی مرکز لورالائی میں کیا۔
افتتاحی تقریب میں اہم شخصیات کی شرکت
تقریب میں جماعت اسلامی لورالائی کے امیر عبدالحفیظ ناصر، الخدمت فاؤنڈیشن بلوچستان کے سیکریٹری جنرل محمد عثمان خان کاکڑ، بنو قابل بلوچستان کے ڈائریکٹر محمد طیب جدون، صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری نورالدین غلزئی اور سابق ضلعی امیر حاجی عبدالباری ناصر سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ جنرل سیکریٹری محمد نعیم کاکڑ، پروفیسر عبدالرحمان موسیٰ خیل، ضلعی ڈپٹی امیر محمد عظیم خروٹی، زاہد قیوم عثمان خیل، فری پینل کمانڈر شاہ محمد زَخپیل، ایلیمنٹری کالج کے پرنسپل پروفیسر عزیز خان، سینئر استاد خیر محمد ترین، قبائلی رہنما ملک نظر محمد ناصر، میڈیا نمائندے اور دیگر علاقائی، قبائلی اور سیاسی شخصیات بھی تقریب میں موجود تھیں۔
نوجوانوں کو مفت جدید کورسز فراہم کیے جائیں گے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ ’بنو قابل‘ پروگرام کا دائرہ اب لورالائی تک بڑھا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے کیمپس میں باصلاحیت نوجوانوں کو جدید کورسز مفت فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت، محنتی اور محب وطن ہیں، لیکن غربت، بے روزگاری، عدم تحفظ اور کرپشن نے بہت سے نوجوانوں کو مایوسی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں میں ناخواندگی، غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل سے نمٹنا چاہتی ہے۔
فری لانسنگ اور ویب ڈویلپمنٹ کی تربیت
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ ’بنو قابل‘ پروگرام لورالائی اور گردونواح کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
پروگرام کے تحت نوجوانوں کو فری لانسنگ، گرافک ڈیزائننگ، ویب ڈویلپمنٹ اور دیگر جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی مفت تربیت دی جائے گی، جن کے لیے عام طور پر ہزاروں روپے فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھے یا انٹرنیٹ کے ذریعے باعزت روزگار کمانے کے قابل بنانا ہے، تاکہ وہ صرف روایتی ملازمتوں پر انحصار نہ کریں۔
عالمی مارکیٹ سے جڑنے کے مواقع
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جب پسماندہ علاقوں کے نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہوں گے اور عالمی مارکیٹ میں کام شروع کریں گے تو اس سے نہ صرف ان کے خاندانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ مقامی برادریوں اور ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام میں تعلیم، ہنر اور کردار سازی پر توجہ دی گئی ہے۔
ان کے مطابق نوجوانوں کو تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور سماجی تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ معاشرے کے مفید اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔
بلوچستان کے دیگر علاقوں تک بھی پروگرام کی توسیع
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے الخدمت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں اور کوشش ہے کہ ہر علاقے کے طلبہ اور نوجوان اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ جعفرآباد، نصیرآباد، گوادر اور اب لورالائی میں ’بنو قابل‘ پروگرام کا آغاز اسی کوشش کا حصہ ہے۔
ان کے مطابق اس کا مقصد ایک ہنرمند، تعلیم یافتہ اور ترقی پسند بلوچستان کی تشکیل ہے۔
انہوں نے صوبے کے طلبہ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔
تقریب سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی ’بنو قابل‘ پروگرام کو بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم اور مثبت اقدام قرار دیا۔







