امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جتنے بچے بھی اس ٹیسٹ میں پاس ہوں گے، ہم ان سے فری آئی ٹی کورس کروائیں گے، کامیاب ہونے پر نہ صرف ملکی غیرملکی عالمی اسکالرشپس بھی دلوائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جنریشن زی میں بہت صلاحیت اور پوٹینشیل ہے، یہ جن-زی دنیا میں بڑے بڑے انقلابات لے کرآرہی ہے، جنریشن زی پاکستان میں بھی انقلاب لائے گی، جوکہ ایک تعمیری انقلاب، ایک تعلیمی انقلاب اور ایک جمہوری انقلاب ہوگا۔ یہ انقلاب اس نطام کی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے اور یہ گدی نشین، اپنی گدی کی بنیاد پر سیاست کیے جارہے ہیں، لیکن ان سب لوگوں نے پاکستان کو بہت پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے، ان سب لوگوں نے پاکستان کو ان کی منزل سے آشنا نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا کیوں ہوا کہ پاکستان میں محض ایک سال میں تین ملین سے زائد لوگ ملک سے باہر چلے گئے؟ اگر یہ لوگ باہر تعلیم کے لیے یا سیکھنے کے لیے جائیں تو یہ کتنا اچھا ہے، لیکن یہ لوگ روزگار کے لیے جارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہاں سے مایوس نظر آتے ہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ موجودہ دور اے آئی اور آئی ٹی کا دور ہے، اب ایسا نہیں ہے کہ ماضی کی طرح آپ کو 100 سال کا سفر کرکے کسی کے برابر آنا پڑتا تھا اور وہ 100 سال مزید آگے نکل جایا کرتا تھا۔ حکومتوں کا یہ کام ہے کہ وہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی تک رسائی دے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ ہمارے پاس بڑی تعداد میں فری لانسرز تو موجود ہیں، مگر ہمارے پاس ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے، جس سے ان کی کمائی گئی رقم کو لایا جائے، لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی ملک سے باہر کمپنیاں کھولتے ہیں، جس سے ہماری ایکسپورٹ متاثر ہوتی ہے۔ 


حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامدیں اور چاپلوسیاں کی جارہی ہیں، جو بات ٹرمپ کو خود نہیں پتہ وہ بھی ہمارے وزیرِاعظم انہیں بتارہے ہوتے ہیں کہ آپ میں یہ خوبی بھی موجود ہے۔ اسرائیل نے 68 ہزار سے زائد معصوم فلسطینیوں کو شہید کیا اور اس کی سرپرستی امریکی صدر نے کی، ٹرمپ نے خود اپنی تقریر میں کہا کہ مجھ سے اسرائیلی وزیرِاعظم نے مدد مانگی۔ وہ ہتھیار لینے کے لیے پیسے مانگتا تھا اور ہم نے دیے اور اس نے ان ہتھیاروں کا بہترین استعمال کیا اور واضح رہے کہ ان ہتھیاروں کا بہترین استعمال غزہ کے ہمارے معصوم بہن، بھائیوں، معصوم بچوں، ماؤں اور بیٹیوں کو شہید کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف ٹرمپ یہ بات کررہا تھا اور دوسری طرف وزیرِاعظم شہباز شریف اس کی خوشامد اور چاپلوسی کررہے تھے، ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے، جب ایسے حکمران ہمارے سروں پر مسلط کیے جاتے ہیں۔