لاہور میں الخدمت پاکستان بنو قابل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں پونے دو کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، جب کہ بتیس فیصد نوجوان بے روزگار ہیں، جو مجموعی طور پر چھ کروڑ کے قریب بنتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث خطرناک راستوں سے یورپ جا رہے ہیں، جو ایک افسوسناک رجحان ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کسی قوم کے لیے اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہو سکتی جہاں تعلیم کو تجارت بنا دیا جائے۔

 ان کا کہنا تھا کہ بچوں اور نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، مگر حکومتیں تعلیم پر توجہ نہیں دیتیں۔ اگر نئی نسل کی تعلیم کو نظرانداز کیا گیا تو یہ خطرناک راستوں پر چل پڑے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ وہ تعلیم کو استحصالی اور طبقاتی بنانے کے تباہ کن طریقے سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم، بالخصوص نوجوانوں کو فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور قوم ہمیں اپنے حق کے لیے بھی لڑنا ہے اور تعلیم و ہنر کے میدان میں بھی آگے بڑھنا ہے۔ الخدمت پاکستان فلاحی خدمات میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، جب کہ بنو قابل کے ذریعے نوجوانوں کو مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ عنقریب گھریلو خواتین کے لیے بھی مفت آئی ٹی کورسز کا آغاز کیا جائے گا۔ پہلے ہدف دس لاکھ طلبا کا تھا، تاہم اب اگلے دو سال میں بیس لاکھ نوجوانوں کو مفت کورسز کرائے جائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق اگلے چھ ماہ میں گوگل پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے جا رہا ہے، جو نوجوانوں کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بنو قابل پروگرام نوجوانوں میں امید کی نئی شمع روشن کرے گا اور مایوسیاں ختم ہوں گی۔

 آخر میں حافظ نعیم الرحمن نے نومبر میں مینارِ پاکستان پر ہونے والے اجتماعِ عام میں نوجوانوں کو شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع ملک کے محروم طبقات کے لیے امید کا پیغام ثابت ہوگا۔