43 سالہ شہید افسر کا تعلق ضلع مانسہرہ سے تھا۔ وہ کیڈٹ کالج بٹراسی کے فارغ التحصیل تھے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات اور محاذ پر مؤثر قیادت کے باعث ساتھیوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
شہید گل فراز بنوں میں 34 لانسر کمپنی میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ شہید کے پسماندگان میں دوبیٹے، دو بیٹیاں اور اہلیہ شامل ہیں۔ انہوں نے دورانِ سروس متعدد کامیاب آپریشنز میں حصہ لیا۔
شہید لفٹیننٹ کرنل گل فراز نے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ ضلع بنوں کے علاقہ سرہ درگہ میں امن دشمنوں کے خلاف آج آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن کے دوران امن دشمنوں کے حملے میں لفٹیننٹ کرنل گل فراز سپاہی سمیت جام شہادت نوش کرگئے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے تک سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔
دفاعی حلقوں اور عوامی نمائندوں نے شہداء کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن دشمنوں کے خلاف جنگ میں ایسی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
یادرہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں خفیہ اطلاع پر مبنی آپریشن کے دوران انڈیا کی پشت پناہی سے کام کرنے والے مبینہ گروہ فتنہ الخوارج سے وابستہ پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی کے دوران ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق آپریشن اس اطلاع پر کیا گیا کہ علاقے میں مسلح شدت پسند موجود ہیں، جن میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے بارودی مواد سے بھری گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور کو بنوں شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا، یوں ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔
کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ تاہم حملہ آوروں نے ایک گاڑی کو دھماکا خیز مواد سے بھر کر فوجی قافلے کی گاڑی سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز (عمر 43 سال، ضلع مانسہرہ کے رہائشی) اور سپاہی کرامت شاہ (عمر 28 سال، ضلع پشاور کے رہائشی) شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکام دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مقام سے قطع نظر جاری رہیں گی۔
فوج کے مطابق ویژن عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی تاکہ ملک دشمن عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ آپریشن 17 فروری کو ضلع باجوڑ میں ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 11 سیکیورٹی اہلکار شہید اور جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: بنوں میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران پانچ دہشت گرد ہلاک، دو جوان شہید: پاک فوج
آئی ایس پی آر کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے بڑی تعداد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئی۔
گزشتہ سال ملک بھر میں 5 ہزار 397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جب کہ انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں 2 ہزار 597 شدت پسند مارے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک میں امن کے قیام کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔







