تفصیلات کے مطابق قائم مقام ایس پی کچھی جان محمد کھوسہ کے مطابق دھماکا عبدالحئی جتوئی کے گھر میں اس وقت ہوا جب گھر کے افراد موجود تھے۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ مکان کی چھت منہدم ہو گئی اور دیواریں گر گئیں۔

ایس پی کے مطابق جاں بحق بچوں میں 14 سالہ ندیم احمد، 13 سالہ سونا خان اور 13 سے 14 سالہ بی بی بختاور شامل ہیں۔ زخمی تین افراد کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے دو روز قبل رات کے وقت گھر میں بارودی مواد نصب کیا تھا جو آج دھماکے سے پھٹ گیا۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ٹارگٹڈ دھماکا تھا۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ موقع پر پہنچ گئے۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جب کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

ایس پی جان محمد کھوسہ کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، پولیس کے ساتھ حساس ادارے بھی تفتیش میں شامل ہو گئے ہیں۔

علاقہ مکینوں کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے سنی اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال خراب چلی آ رہی ہے اور ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب تاحال کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔