آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، فحاشی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف قانون فوری طور پر حرکت میں آئے گا۔ لاہور میں بسنت صرف مخصوص دنوں میں اور سخت حکومتی شرائط کے تحت منانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان  کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں انسداد پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 333 مقدمات درج کیے گئے اور 340 ملزمان گرفتار ہوئے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 19 ہزار 324 غیر منظور شدہ پتنگیں اور 612 ڈور چرخیاں برآمد کیں۔ لاہور میں غیر قانونی پتنگوں اور ڈور کے کاروبار میں ملوث 167 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 2 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں اور 451 ڈور چرخیاں ضبط کی گئیں۔

مزید پڑھیں: پی ایم اے کا جامع پلان تیار، بسنت کے دنوں میں شہری مفت سفر کیسے کریں گے؟

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ بسنت فیسٹیول کے لیے صوبائی حکومت نے واضح قواعد و ضوابط طے کر دیے ہیں اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے موٹرسائیکل سواروں کو 10 لاکھ سیفٹی راڈز مفت فراہم کیے گئے ہیں جبکہ عوام میں حفاظتی تدابیر اور حکومتی ایس او پیز کے بارے میں آگاہی مہم بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر پتنگ، گڈا اور ڈور کے پنے پر خصوصی کیو آر کوڈ چسپاں کیا گیا ہے، جس کے ذریعے انتظامیہ کے پاس پتنگیں فروخت کرنے والوں اور خریدنے والوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہوگا۔ علاوہ ازیں، بسنت کے تین دنوں کے دوران الیکٹرک بسیں، رکشے اور ٹیکسیاں عوام کے لیے مفت سفری سہولت فراہم کریں گی۔ شہریوں پر زور دیا گیا کہ وہ بسنت کے تہوار کو احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ منائیں۔

انہوں  نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 25 سال بعد عوام کو بسنت جیسے خوبصورت تہوار کی اجازت دی اور اس کے ذریعے پنجاب کی ثقافت کو فروغ دینے کا کریڈٹ انہیں جاتا ہے۔