اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں ہمارا مینڈیٹ ہے، آئندہ کوئی بھی فیصلہ ہماری اجازت کے بغیر نہیں ہوگا۔
علیمہ خان نے سوال اٹھایا کہ بیرسٹر گوہر علی خان، حامد خان، علی ظفر اور لطیف کھوسہ کہاں ہیں اور کیوں نہیں بتاتے کہ محسن نقوی نے کیا یقین دہانی کرائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی یہ بیان دے رہے ہیں کہ بانی کے علاج میں تاخیر ہوئی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ علاج ہوا ہی نہیں، صرف انہیں پمز اسپتال لے جایا گیا۔
علیمہ خان نے سوال کیا کہ پارٹی رہنما وزیر داخلہ کو اس معاملے پر چیلنج کیوں نہیں کر رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر کو بانی کی صحت کی بڑی فکر تھی مگر بیرسٹر گوہر نے بانی کی صحت فارغ کرا دی، اب وہ اس معاملے پر سامنے کیوں نہیں آ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس سے براہِ راست بات کی کوشش، وزیراعلیٰ کے پی کا شکوہ
علیمہ خان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ آئندہ پارٹی قیادت بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر خاندان کی اجازت کے بغیر کوئی بیان یا فیصلہ نہ کرے۔







