بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ملک اور فوج سب کی مشترکہ ملکیت ہیں، ہم پہلے بھی ساتھ رہے اور آئندہ بھی ساتھ رہیں گے۔
انہوں نے زور دیا، "ہاتھ ملاؤ تاکہ راستہ بنے، بات کرو تاکہ بات سے بات بنے۔ ملکی حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ جامع مذاکرات کیے جائیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ اصلاحات کی کوشش کر رہی ہے اور مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، تاہم کچھ عناصر اداروں اور پارٹی میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک صوبے کو تمام وسائل دیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق پر واجب الادا رقم صوبے کو منتقل کی جائے اور آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ پر بھی بات ہونی چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے اور اپوزیشن کے لوگ پنجاب میں رہائش اختیار نہیں کر سکتے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں آئینی عمل اور معاشی استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اس لیے آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔







