وزارت اطلاعات کے ترجمان کے مطابق فائرنگ کا آغاز افغان جانب سے کچھ شرپسند عناصر نے کیا، تاہم پاکستانی فورسز نے انتہائی ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مناسب اور پیمانہ شدہ ردِعمل دیا۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں صورتحال جلد معمول پر آگئی اور اس وقت جنگ بندی برقرار ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغان حکام کے پھیلائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فائرنگ کی ابتدا افغانستان کی طرف سے کی گئی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان سرحدی نظم و ضبط، امن و استحکام اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اور اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسلسل مذاکراتی عمل کے لیے پُرعزم ہے اور امید کرتا ہے کہ افغان حکام بھی تعاون اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے تاکہ ایسے واقعات مستقبل میں پیش نہ آئیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے سپن بولدک پر فائرنگ کی ہے، جب کہ  پاکستان نے افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ افغانستان کی طرف سے کی گئی تھی اور ہماری سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر اور ذمہ دارانہ اور نپے تلے انداز میں اس کا جواب دیا۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ استنبول میں جاری مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران آج سہ پہر پاکستانی فورسز نے ایک بار پھر قندھار کے ضلع سپن بولدک پر فائرنگ کی۔

ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’ابھی تک امارت اسلامیہ کی فورسز نے مذاکراتی ٹیم کے احترام اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ واضح رہے کہ مذاکرات کے گذشتہ دور کے دوران فریقین نے جنگ بندی میں توسیع اور کسی بھی جارحانہ کارروائی کو روکنے پر اتفاق کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان میں مذاکرات کا تیسرا دور ترکی اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں ہو رہا ہے۔ دونوں وفود گزشتہ روز استنبول پہنچے تھے۔