پولیس ذرائع کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد اسلام آباد پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا اور انہیں تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کو تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں گرفتار کرکے ان کی گرفتاری ڈال دی گئی ہے۔ مقدمے میں ریاست مخالف بیانیے، اشتعال انگیزی اور کارِ سرکار میں مداخلت سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔

دوسری جانب آج ہی سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کو 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک ہوگی۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمد بھی معطل کردیا۔

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، انہیں بھی عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وکیل اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں 17،17 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ اسلام آباد کی سیشن عدالت نے دونوں کو مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائی تھیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق دونوں کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت سزائیں دی گئی تھیں، جن میں مجموعی طور پر 17 سال قید شامل تھی۔

سپریم کورٹ نے آج سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل کیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دیا ہے۔