ذرائع نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی قیادت نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو مستعفی ہونے کے لیے پیغام بھجوا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ قانون ساز اسمبلی کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پیغام میں واضح کیا گیا کہ پارٹی کے پاس ان کے خلاف عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ نمبرز پورے ہیں، اس لیے وہ خود مستعفی ہو کر سیاسی بحران سے بچیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر کو مستعفی ہونے کے لیے 28 اکتوبر تک کی مہلت دی گئی تھی، جب کہ استعفے کا پیغام وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے پہنچایا گیا۔

پیپلز پارٹی سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا، وہ اپنے آئینی دورِ اقتدار کو مکمل کریں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ صدر آزاد کشمیر کے گروپ نے پیپلز پارٹی میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس گروپ کے پانچ اراکین قانون ساز اسمبلی میں موجود ہیں، تاہم بیرسٹر سلطان محمود نے تاحال ذاتی حیثیت میں پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

ذرائع کے مطابق سلطان محمود گروپ کو آزاد کشمیر کابینہ میں بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔