ایچ ای سی کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں بعض افراد خود کو کمیشن کے تصدیقی ایجنٹ ظاہر کرکے شہریوں کو تعلیمی دستاویزات کی تصدیق کرانے میں معاونت کی پیشکش کر رہے ہیں۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ایسے افراد سے کسی قسم کا لین دین یا اپنی معلومات شیئر کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس کے نتیجے میں شہری فراڈ اور جعل سازی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ایچ ای سی نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ذاتی اور تعلیمی معلومات کسی غیر مجاز شخص کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں اور اسناد کی تصدیق کے لیے صرف سرکاری طریقہ کار اور ایچ ای سی کی آفیشل ویب سائٹ استعمال کریں۔
کمیشن کے مطابق تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل مکمل طور پر آن لائن اور کاغذ سے پاک ہے، جس کے ذریعے درخواست گزاروں کو تیز، آسان اور سہل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: طالبان اقتدار کے بعد 24 لاکھ سے زائد بچیاں ثانوی تعلیم سے محروم، یونیسکو
ایچ ای سی نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تصدیق کی درخواستیں خود سرکاری طریقہ کار کے مطابق جمع کرائیں اور کسی غیر مجاز ایجنٹ یا فرد پر اعتماد نہ کریں۔
کمیشن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسناد کی تصدیق کے لیے کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں، شہری صرف سرکاری ذرائع استعمال کریں تاکہ ممکنہ فراڈ اور جعل سازی سے محفوظ رہ سکیں۔







