پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کیس کی مؤثر پیروی اور تفتیشی عمل کی نگرانی کے لیے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی کو بھی خصوصی ہدایات جاری کردی ہیں۔ لیکن یہ حنا جاوید کون تھیں، ان کے قتل کا معاملہ کیا ہے اور یہ کیس ہائی پروفائل کیوں قرار دیا گیا؟

حنا جاوید کون تھیں؟

حنا جاوید 45 سالہ پروفیشنل تھیں جو نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے وابستہ تھیں۔ انہوں نے نیشنل اسمبلی سیکریٹریٹ میں اسپیکر آفس کے لیے بطور کنٹینٹ رائٹر کام شروع کیا اور بعد ازاں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا میں میڈیا ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دیں۔

جون 2026 میں نیشنل اسمبلی سیکریٹریٹ میں ان کی ڈیپوٹیشن مکمل ہونے کے بعد انہیں ایوانِ صدر کی کمیونیکیشن ٹیم میں تعینات کیا گیا تھا۔

20 اگست کو کیا ہوا؟

حنا جاوید 20 اگست کو راولپنڈی کے لال کرتی کے علاقے میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں۔ ابتدائی اطلاع میں گھر میں چوروں کے داخل ہونے کی بات سامنے آئی، تاہم پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد صورتحال مختلف دکھائی دی۔

پولیس کے مطابق حنا کی لاش باتھ روم میں شاور کے قریب پائی گئی جب کہ ان کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے تھے۔ تفتیش کے دوران پولیس نے خودکشی کے امکان کو بھی مسترد کیا اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔

حنا کے بھائی کی مدعیت میں 20 اگست کو تھانہ سول لائنز میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا۔ پولیس نے حنا کے شوہر اور گھریلو ملازم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کی جب کہ سسر سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔

پوسٹ مارٹم میں کیا سامنے آیا؟

مقدمے کی تفتیش میں پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی اہم کڑی بن گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حنا کے جسم پر متعدد زخموں اور تشدد کے نشانات پائے گئے جب کہ گردن کی ہڈی، یعنی ہائیوئڈ بون، ٹوٹی ہوئی تھی۔

رپورٹ میں گردن کے گرد تقریباً 27 سینٹی میٹر کا لیگیچر مارک بھی درج کیا گیا۔ مزید شواہد کے لیے جسم سے حاصل کیے گئے ڈی این اے اور دیگر نمونے فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے ہیں۔

تفتیش کہاں تک پہنچی؟

پولیس نے حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا، جس میں عدالت نے بعد ازاں مزید تین روز کی توسیع کردی۔

پولیس نے تفتیش کے دوران ملزمان کو ڈی این اے اور پولی گراف ٹیسٹ کے لیے لاہور بھی منتقل کیا۔ پولیس حکام کے مطابق شواہد، فرانزک رپورٹس اور ملزمان کے بیانات کو سامنے رکھ کر تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔

اب پراسیکیوشن بھی متحرک

اب اس کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے حنا جاوید قتل کیس کو ہائی پروفائل کیس قرار دے دیا ہے اور تفتیش و قانونی کارروائی کی نگرانی کے لیے سینئر پراسیکیوٹرز پر مشتمل خصوصی کمیٹی قائم کردی ہے۔

ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی کی زیرِ نگرانی پولیس افسران کے ساتھ اجلاس میں کیس کی اب تک کی تفتیش، دستیاب شواہد اور پراسیکیوشن کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

متعلقہ تفتیشی افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ تفتیش کو سائنسی اور جامع بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور شواہد کے تمام ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے تاکہ کوئی اہم شہادت یا تفتیشی پہلو نظر انداز نہ ہو۔

اب اصل امتحان تفتیش کا ہے

حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کی تحقیقات کے بعد پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی براہِ راست نگرانی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملے کو معمول کے مقدمے کے طور پر نہیں بلکہ اہم اور حساس کیس کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

تاہم حتمی ذمہ داری اور جرم ثابت ہونا عدالت کے فیصلے سے مشروط ہے۔ اب سب کی نظریں فرانزک شواہد، ڈی این اے رپورٹس، تفتیشی نتائج اور آئندہ عدالتی کارروائی پر ہیں کہ 20 اگست کو حنا جاوید کے ساتھ اصل میں کیا ہوا اور اس قتل کے ذمہ دار کون ہیں۔