سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ آج رات تک آنے کی توقع ہے، اپوزیشن رپورٹ کا جائزہ لے اور نشاندہی کرے کہ اس میں کوئی سقم رہ گیا ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سمیت کسی کی نیت نہیں کہ پمز سانحے میں ملوث کسی بھی شخص کو بچایا جائے، ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ’ترم خان‘ کیوں نہ ہو۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ تمام ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور متعلقہ افسران کو لائن حاضر کیا جائے گا۔

انہوں نے ارکانِ اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایم این اے یا سینیٹر کو کسی افسر کو بچانے کے لیے فون نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں شخص کو کیوں ہٹایا گیا، کیونکہ نظام میں سب کے لوگ موجود ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وزارتوں کے لیے اپنی قبریں خراب نہیں کریں گے اور حکومت اپوزیشن کی تجاویز کا خیرمقدم کرے گی۔ اپوزیشن حکومت کو گائیڈ کرے اور مستقبل کے لیے روڈ میپ دے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

پمز سانحے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ واقعے میں 15 بچے جاں بحق ہوئے جب کہ ایک بچے کو اسپتال کے عملے نے بچایا۔ نرسری میں موجود بچوں میں سے ایک بچے کو اسٹاف نے ریسکیو کیا، کسی رشتہ دار نے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ وزیر صحت ہیں اور خود کو بھی اس معاملے میں ذمہ دار سمجھتے ہیں، اسی لیے انہوں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کمیٹی بنائے اور واقعے کی تحقیقات کرے، تاہم تحقیقات کے لیے 40 روز کی طویل مدت مقرر نہ کی جائے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے نظام کی صورتحال مثالی نہیں اور ملک بھر میں روزانہ تقریباً 1300 بچے جاں بحق ہو رہے ہیں۔ دنیا میں بچوں کی یومیہ اموات کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ تقریباً 4 لاکھ بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں اور اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔ آج کا دن ختم ہونے تک مزید 1300 بچے جان کی بازی ہار چکے ہوں گے، حالانکہ ان میں سے کئی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ: وفاقی حکومت کا جاں بحق نومولود بچوں کے خاندانوں کے لیے 50 لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز سانحے کو محض تاریخوں، کمیٹیوں اور تحقیقات تک محدود نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس واقعے کی بنیاد پر صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں بچوں کی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص کو ہٹا کر میری مرضی کا افسر تعینات کیا جائے، تاہم صرف افراد کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پمز سانحے کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور جہاں بھی کوتاہی سامنے آئی، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کسی صورت دبنا نہیں چاہیے اور حکومت و اپوزیشن کو مل کر ایسا لائحہ عمل بنانا ہوگا جس سے مستقبل میں بچوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔