نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق لاہور کے مقامی آڈیٹوریم میں اپنی خودنوشت "32 آنکر روڈ" کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے اعتراف کیا کہ وہ ایف بی آر میں مطلوبہ اصلاحات نہیں لا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کی سیاست پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ ماضی میں لاہور کمیونسٹوں اور نیشنلسٹوں کا شہر تھا، لیکن لبرل عناصر کو ختم کر کے شہر کے فکری اور سیاسی کلچر کو نقصان پہنچایا گیا۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف پاکستان پر کوئی ایسی شرط عائد نہیں کر سکتا جو قومی مفادات کے خلاف ہو، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
تقریب میں شریک مقررین نے شبر زیدی کی آٹو بائیوگرافی کو ایک صاف گو، ایماندار اور کھری شخصیت کی عکاس کتاب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کتاب میں پاکستان کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کی خامیوں کو بے باکی سے اجاگر کیا گیا ہے۔
معروف صحافی حسین نقی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے امکانات ختم ہوتے جا رہے ہیں، جب کہ سابق گورنر اسٹیٹ بینک اور پنجاب کے قائم مقام وزیر خزانہ شاہد حفیظ کاردار نے کہا کہ آئی ایم ایف ہمارے مسائل کی جڑ ہے اور ایف بی آر کے ڈھانچے میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔







