حیدرآباد میں یومِ دفاع و شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان ایک ناقابلِ تقسیم ملک ہے اور اس کے انتظامی یونٹس کو ملک کی تقسیم کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، عوام کے سامنے یہ فیصلہ واضح ہونا چاہیے کہ دھرتی ماں پاکستان ہے، جبکہ باقی تمام اکائیاں انتظامی یونٹس ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے ملک کے سیاسی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار ایک جاگیردار سے نکل کر دوسرے جاگیردار کے پاس جاکر پھنس چکا ہے، جب فیصلے پارلیمنٹ اور اداروں میں بروقت نہیں ہوتے تو پھر فیصلے سڑکوں پر ہونے لگتے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان نے سڑکوں کی سیاست اور اس کے اثرات دیکھے ہوئے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن کے ذریعے عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں فیصلہ سازی کا حصہ بنایا جاسکے۔ ان کے مطابق عوام کو صرف انتخابی عمل تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں حکومتی اور انتظامی معاملات میں بھی مؤثر نمائندگی دی جانی چاہیے۔

18ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس ترمیم کے عمل میں اس لیے شرکت کی تھی کہ اگر وہ شریک نہ بھی ہوتی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ترمیم کرلیتی، ایم کیو ایم نے آئینی عمل میں اپنا کردار ادا کیا اور کوشش کی کہ عوام اور صوبوں سے متعلق معاملات میں ان کے مؤقف کو بھی شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی یونٹس کے حوالے سے بحث کو سیاسی تقسیم کے بجائے انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، ملک کی وحدت اپنی جگہ برقرار رہتے ہوئے انتظامی سطح پر ایسے فیصلے کیے جاسکتے ہیں جو عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں۔

یومِ دفاع و شہدا کی تقریب میں خالد مقبول صدیقی نے ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا، پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مسلح افواج اور عوام کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، جبکہ قومی یکجہتی ہی ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بنیادی طاقت ہے۔

دوسری جانب تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستانیوں کی کوئی قدر نہیں تھی، تاہم آج صورتحال مختلف ہے اور دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان نے تیسری عالمی جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا اور آج پاکستان سپر پاور کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عزت اور وقار کے ساتھ بات کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور ملک نے اپنی صلاحیت اور سفارتی کردار کے ذریعے دنیا میں اپنا مقام بہتر کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی قوم نے مشکل حالات میں اپنی صلاحیت، اتحاد اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، ملک کی مسلح افواج اور عوام نے ہمیشہ قومی سلامتی کے معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یومِ دفاع و شہدا ہمیں ان تمام قومی ہیروز کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، شہدا کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور پاکستان کی ترقی، استحکام اور خودمختاری کے لیے اجتماعی کردار ادا کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

تقریب میں ملکی دفاع، قومی یکجہتی اور سیاسی و انتظامی معاملات کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، جبکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کیا جائے گا۔