سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور خاندان کے افراد کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے، سیاسی معاملات پر مشاورت اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقاتیں ضروری ہیں، اس لیے متعلقہ حکام کو اس حوالے سے رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے الیکشن کمیشن کے معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھا ہے، جس میں اہم نکات اٹھائے گئے ہیں، وزیراعظم کو اس خط کا نوٹس لینا چاہیے اور معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔

مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مذاکرات کا معاملہ ماضی میں بھی صرف پیشکشوں تک محدود رہا، تاہم اب اس حوالے سے عملی پیش رفت ہونی چاہیے، محض مذاکرات کی بات کرنا کافی نہیں، بلکہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت کی ضرورت ہے۔

بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی معاملات کو خود سے طے کرنے کی کوشش کی گئی اور عوامی رائے کو نظر انداز کیا گیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، اگر معاملات کو عوام اور سیاسی قوتوں کی شمولیت کے بغیر حل کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام کا سیلاب آئے گا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے سندھ کے عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کراچی آمد کے موقع پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے باوجود عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا، عوام کی جانب سے اس استقبال سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ موجودہ اسٹیٹس کو کو قبول نہیں کرنا چاہتے اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

دہشتگردی کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے سیاسی جماعتوں کو پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے، اس پر سیاسی بیانات کے بجائے قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہری اور سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے اس معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دہشتگردی سے متعلق بیان پر بھی تنقید کی اور اسے متعصبانہ قرار دیا۔ بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیان پر معافی مانگیں، دہشتگردی جیسے حساس معاملے پر ملک کی سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے اور ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جن سے صوبوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں۔

بیرسٹر گوہر نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے، دہشتگردی کے اصل محرکات اور عوامل کو سامنے لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور سیاسی رہنما کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب جیسا بیان دیا جاتا تو شاید اس کے خلاف کارروائی کی جاتی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ قومی سیاسی قیادت کو دہشتگردی کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ اس جنگ میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ہماری افواج بھی مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں، دہشتگردی کے خلاف قومی سطح پر اتفاقِ رائے اور مشترکہ پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ اور اہم قومی معاملہ ہے جس پر کھل کر بحث ہونی چاہیے، تاہم اس حوالے سے متنازع قانون سازی سے گریز کیا جائے، عوام کی مرضی اور منتخب نمائندوں کی رائے کے بغیر کسی صوبے کی تقسیم کا فیصلہ وفاق کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان جیسے صوبوں کی انتظامی تقسیم کا فیصلہ عوام اور منتخب نمائندوں کی مرضی کے بغیر کیا گیا تو اس کے نتیجے میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں، ملک میں ایسے تجربات نہیں کیے جانے چاہئیں جن سے سیاسی اور انتظامی سطح پر مزید اختلافات جنم لیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نئے پارلیمان کو صوبوں کے معاملے کا جامع جائزہ لینا چاہیے اور اس حوالے سے وسیع تر مشاورت کی جانی چاہیے، جیسے 18ویں آئینی ترمیم کے موقع پر مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان مشاورت ہوئی، اسی طرح نئے صوبوں کے معاملے پر بھی تمام سیاسی جماعتوں، صوبوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ جلد بازی میں نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایسے کسی بھی اقدام سے قبل عوامی رائے، آئینی تقاضوں، صوبائی مفادات اور وفاق کی یکجہتی کو سامنے رکھنا ضروری ہے، ملک میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت اپنی جگہ، تاہم ایسے فیصلے اتفاقِ رائے اور وسیع مشاورت کے ذریعے ہی کیے جانے چاہئیں۔

بیرسٹر گوہر نے مجموعی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام، بامعنی مذاکرات اور قومی معاملات پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھنا چاہیے تاکہ موجودہ اختلافات کو سیاسی اور آئینی طریقے سے حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔