ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے مذاکرات کے لیے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کا اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے۔ اجلاس میں حکومت سے ہونے والے مذاکرات کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان، ضیاءالدین انصاری ایڈووکیٹ، نوید علی بیگ اور شاہد نعیم شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی مذاکرات کے دوران بالخصوص پٹرولیم لیوی کے خاتمے کا معاملہ اٹھائے گی اور حکومت کو اس حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ کمیٹی کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے عوام پر پڑنے والے اثرات اور ریلیف کے ممکنہ اقدامات پر بھی بات کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حکومت نے بھی جماعت اسلامی سے مذاکرات کے لیے اپنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ حکومتی کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کریں گے۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور بلال اظہر بھی شامل ہیں۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پٹرولیم لیوی کے علاوہ عوام کو ریلیف دینے سے متعلق دیگر تجاویز بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر اضافی بوجھ کم کیا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف اور تجاویز پیش کی جائیں گی، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی جائے گی۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، ٹیکسز اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے معاملات سیاسی سطح پر بھی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی صورت میں جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مزید نشستیں بھی متوقع ہیں، جن میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔







