لاہور میں سینئر صحافیوں سے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ان سے بھی بھتہ مانگا جاتا ہے، ان کے بیٹوں اور بھتیجوں پر بھی حملے ہوچکے ہیں، کیونکہ وہ بھتہ نہیں دیتے۔ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں عام شہریوں، سیاسی شخصیات اور دیگر طبقات کو مختلف نوعیت کے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے دو مرتبہ پارلیمنٹ میں ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، تاہم ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا، ملک کو درپیش سیکیورٹی اور قومی معاملات پر پارلیمنٹ کے اندر سنجیدہ اور بامعنی مشاورت ہونی چاہیے تاکہ صورتحال کا جامع جائزہ لیا جاسکے اور مستقبل کی حکمت عملی طے کی جاسکے۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک کی معاشی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نہ پاکستانی سرمایہ کاری کررہے ہیں اور نہ ہی بیرون ملک سے سرمایہ کار آرہے ہیں، ملکی معیشت کے لیے سرمایہ کاری اور تجارت کا فروغ ناگزیر ہے، لیکن موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کے اعتماد اور کاروباری سرگرمیوں کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تجارت کا ایک اہم دارومدار وسط ایشیا پر تھا، لیکن موجودہ صورتحال کے باعث یہ تجارت بھی متاثر ہوئی ہے، پاکستان سے سبزیاں اور پھل وسط ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جاتے تھے، تاہم اب یہ سلسلہ بھی تقریباً ختم ہوگیا ہے، جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ زرعی شعبے سے وابستہ افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کی تشکیل اور انتخابی عمل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ دھاندلی سے بنی ہے، ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کو عوامی مینڈیٹ اور حقیقی نمائندگی کا آئینہ دار بنایا جائے، کیونکہ سیاسی نظام پر اعتماد کے بغیر دیرپا معاشی اور انتظامی اصلاحات ممکن نہیں۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ بھی موجودہ حکومت کو ہضم نہیں ہورہا، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا نظام آئینی تقاضوں اور صوبوں کے حقوق کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ تمام اکائیوں کو ان کا جائز حصہ مل سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے ملک کے معدنی ذخائر کے معاملے پر بھی شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معدنی وسائل سے متعلق معاملات کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے، معدنی ذخائر سے حاصل ہونے والے وسائل میں وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ واضح اور متعین ہونا چاہیے تاکہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اختیارات کی تقسیم کو بھی ملکی مسائل کے حل کے لیے ضروری قرار دیا، وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان اختیارات واضح طور پر تقسیم کیے جائیں تو عوام کو درپیش بہت سے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر مؤثر طرز حکمرانی قائم کرنا مشکل ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ ان کی جماعت نے مذاکرات کے دوران حکومت سے 35 شقوں سے دستبرداری کرائی، یہ پیش رفت جے یو آئی (ف) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اشتراک اور مشاورت کا نتیجہ تھی، مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمنٹ میں الائنس بھی تشکیل دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور پارلیمانی سطح پر مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اہم آئینی اور قومی معاملات پر مؤثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ملک کے وسیع تر مفاد میں قومی معاملات پر سیاسی قوتوں کے درمیان رابطہ اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ محسن نقوی کے معاملے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے متعلق بھی گفتگو کی اور کہا کہ ان کا ذہن اور نواز شریف کا ذہن ایک جیسا ہے، تاہم فرق یہ ہے کہ وہ اپنی بات کھل کر بیان کررہے ہیں جبکہ نواز شریف خاموش ہیں۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے سیاسی استحکام، مؤثر حکمرانی، اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور قومی معاملات پر سنجیدہ مشاورت ضروری ہے، ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ محض بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور سیاسی اتفاقِ رائے کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔







