تفصیلات کے مطابق یہ اعتراضات 18 اگست کو سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کی عوامی سماعت کے دوران سامنے آئے، جس میں ڈیفنس، کلفٹن اور قیوم آباد کے رہائشیوں سمیت مختلف شہری و حقوق کی تنظیموں نے شرکت کی۔

گرین چیمبر، کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس نے 22 صفحات پر مشتمل دستاویز جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ماحولیاتی و سماجی اثرات کی تشخیص (ESIA) میں مطلوبہ ڈیٹا، ماڈلنگ اور قابلِ عمل تدارکی اقدامات کی کمی ہے۔

تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ چار لین فریٹ کوریڈور ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے بجائے اسے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرسکتا ہے۔ انہوں نے قیوم آباد، کورنگی کراسنگ، بلوچ کالونی روڈ اور پورٹ اپروچز کی تفصیلی نیٹ ورک ماڈلنگ اور ٹریفک کاؤنٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑک، ریل، ہائبرڈ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک مینجمنٹ سمیت متبادل آپشنز کا لاگت، مال برداری کی گنجائش، سفری وقت، اخراج اور موسمیاتی خطرات کی بنیاد پر تقابلی جائزہ لیا جائے۔ موجودہ انفراسٹرکچر، ناردرن بائی پاس میں بہتری، پورٹ گیٹ مینجمنٹ اور ریل فریٹ جیسے آپشنز کو بھی جانچنے کا مطالبہ کیا گیا۔

تنظیموں کے مطابق چائنہ کریک کے قریب تقریباً چار سے پانچ میٹر بلند مٹی کا پشتہ پانی کے بہاؤ، سمندری پانی کے تبادلے، تلچھٹ کی نقل و حرکت، سیلاب کی سطح اور مینگرووز کی افزائش کو متاثر کرسکتا ہے۔

انہوں نے آزاد دو جہتی ہائیڈرولوجیکل اور سیڈیمنٹ ٹرانسپورٹ اسٹڈی کے ساتھ مینگرووز، مچھلیوں کی افزائش گاہوں، ساحلی جانداروں اور ہجرت کرنے والے پرندوں کے تفصیلی موسمی سروے کا مطالبہ کیا۔

تنظیموں نے اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں کے اطراف پی ایم 2.5، پی ایم 10، این او ایکس اور ایس او 2 کی تفصیلی ماڈلنگ کا مطالبہ کیا۔

ان کے مطابق ماحولیاتی جائزے کے دوران شور کی سطح 65 ڈیسی بل کے تجارتی معیار سے زیادہ ریکارڈ ہوئی، جن میں 68.5، 67.6، 67.9 اور 69.5 ڈیسی بل کی ریڈنگ شامل ہیں۔ تنظیموں نے رات کے اوقات میں مال بردار ٹریفک کے شور کے اثرات کا بھی جائزہ لینے پر زور دیا۔

بھٹہ ولیج اور گلشن سکندرآباد کو ’غیر تسلیم شدہ‘ یا ’غیر قانونی‘ قرار دینے پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ تنظیموں نے 1951 کے کراچی کے نقشے سمیت تاریخی ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ان علاقوں کا علیحدہ تاریخی و سماجی جائزہ لینے اور ماہی گیر برادری کے ذریعۂ معاش کا سروے کرانے کا مطالبہ کیا۔

گلشن سکندرآباد کے رہائشیوں نے ایکسپریس وے کے راستے سے آبادکاری کی مخالفت کی، جبکہ اے بی ایس اے کالج فار دی ڈیف اور التمش انسٹی ٹیوٹ نے رسائی، گرد و غبار اور کمپن کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی۔

تنظیموں نے کراچی پورٹ سے موجودہ ریلوے رابطے کو مدنظر رکھتے ہوئے ریل آپشن کا جائزہ لینے، ٹریفک مینجمنٹ اور روڈ سیفٹی پلان، ماحولیاتی مطالعات، ذریعۂ معاش و جائیداد کے سروے اور تیسرے فریق کی آزاد نگرانی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے منصوبے کا تفصیلی ڈیزائن سامنے آنے کے بعد دوبارہ عوامی مشاورت، اعتراضات پر جواب میٹرکس کی اشاعت اور تعمیر سے قبل عوامی شکایات کے ازالے کا باقاعدہ نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔