قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے اور خلیجی ممالک کے لیے شراکت داروں کا تعاون بھی اہمیت رکھتا ہے، تاہم اپنی سلامتی کو مکمل طور پر بیرونی اتحادیوں کے سہارے نہیں چھوڑا جاسکتا۔

ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ سیکیورٹی کے معاملے میں خود انحصاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، خطے کے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں، سیکیورٹی نظام اور بحرانوں سے نمٹنے کی استعداد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں وہ اپنے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرسکیں۔

قطری ترجمان نے کہا کہ ہمیں اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کی ضرورت ہے اور ان کا کردار اہم ہے، لیکن اپنی سیکیورٹی کے لیے صرف اتحادیوں اور شراکت داروں پر انحصار نہیں کرسکتے۔ خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری میں خود بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر خلیجی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھائیں اور مشترکہ سیکیورٹی کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں۔ ان کے مطابق مستقبل میں خطے کا استحکام صرف بیرونی طاقتوں کی موجودگی یا تعاون سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی کے حوالے سے زیادہ خودمختار اور باصلاحیت بننا ہوگا۔

ماجد الانصاری نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں بھی کہا کہ قطر ثالثی کے لیے ہونے والے امریکا ایران مذاکرات سے قبل ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ معاہدے کا منتظر ہے۔

قطری ترجمان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ دوحہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کی اپنی سیکیورٹی صلاحیتوں کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ قطر کا مؤقف ہے کہ علاقائی ممالک کو اتحادیوں کے تعاون سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی استعداد اور خود انحصاری پر بھی توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم ہیں۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں سفارتی رابطوں، مذاکرات اور علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اختلافات کو کشیدگی کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج میں سیکیورٹی صورتحال اور امریکا ایران تعلقات پر مسلسل توجہ مرکوز ہے، جبکہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے اتحادی طاقتوں کے کردار کے ساتھ ساتھ اپنی داخلی دفاعی صلاحیتوں پر بھی غور کررہے ہیں۔