لیپ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن کو عملی شکل دینے کے لیے مختلف شعبوں میں اقدامات کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ڈیجیٹل معیشت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے تیز رفتار اور قابلِ اعتماد کنیکٹیویٹی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر نہ صرف شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی میں مدد دے گا بلکہ کاروباری سرگرمیوں، تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں پاکستان کے لیے ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں فراہم کرنے اور انہیں عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر ملکی معیشت کے لیے ایک اہم محرک بن چکا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ہنرمند افرادی قوت کے ذریعے برآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق حکومت کا مقصد نوجوانوں کو صرف ٹیکنالوجی کے صارفین تک محدود رکھنا نہیں بلکہ انہیں ڈیجیٹل معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل اسکلز، تربیتی پروگرامز اور ٹیکنالوجی سے متعلق مواقع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی انٹرپرینیورز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاکہ نوجوان اپنے کاروباری آئیڈیاز کو عملی شکل دے سکیں اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق معیشت، تعلیم، روزگار، سرکاری خدمات اور روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے۔ پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر مقام دلانے کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور ہنرمند افرادی قوت دونوں ضروری ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کے ڈیجیٹل سفر کو مزید تیز کرنے، ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری لانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔