اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ کے دوران پاکستان کو انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ بھاری معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ عالمی برادری کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور اس کے کردار کا اعتراف کرنا چاہیے، پاکستان نے اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے واقعات بدستور سنگین چیلنج ہیں۔
نائب وزیراعظم نے بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سانحہ جعفر ایکسپریس سمیت مزدوروں کے اغوا اور ان کی شہادتوں جیسے افسوسناک واقعات کا سامنا کرنا پڑا، ایسے واقعات دہشتگردی کے خطرے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں اور اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور صوبوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور اس کے خاتمے کے لیے نئے خطوط پر کام کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگرد عناصر کے خلاف دن رات کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صرف کسی ایک ادارے یا صوبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے ملک کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور ان کی ہدایات پر دہشتگردوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق سیکیورٹی ادارے ملک میں امن و استحکام کے قیام اور دہشتگرد عناصر کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے متعدد مواقع پر افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر افغان حکام سے بات چیت کے لیے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے دورے بھی کیے گئے اور مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے گئے ہیں۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغانستان سے بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ افغان سرزمین سے دہشتگرد سرگرمیوں کا خاتمہ یقینی بنایا جائے اور وہاں موجود عناصر کو پاکستان میں حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے، خطے میں امن و استحکام کے لیے اس معاملے پر مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
نائب وزیراعظم نے اگست 2025 میں کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان ہونے والے سہ فریقی اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فورم پر بھی دہشتگردی سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئے تھے۔ تاہم، بدقسمتی سے افغان حکام دہشتگردی کے معاملے پر کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اسحاق ڈار کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ افغانستان سے سفارتی سطح پر بھی تعاون کا مطالبہ کر رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے افغان حکام کو اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشتگرد سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔







