پشاور میں ہونے والے خصوصی سیکیورٹی اجلاس میں کونسل آف ایڈوائزرز کے ارکان، چیف سیکریٹری، قبائلی و داخلہ امور کے مشیر، انسپکٹر جنرل پولیس، سینیئر پولیس افسران، سی ٹی ڈی حکام اور حساس اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتِ حال، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے شرکا کو سیکیورٹی صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں حالات پُرامن اور معمول کے مطابق رہے۔ اس موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں اور مستقبل میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط کیا جائے گا۔ شرکا نے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے، دستیاب وسائل کے بہتر استعمال اور اہلکاروں کو درپیش مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطوں اور باہمی تعاون کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے اور امن و امان کے قیام کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

شرکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ ان کے اہلِ خانہ کی قربانیوں کو بھی سراہا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں امن کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ اور ان کی کونسل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی معاونت کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اداروں کی حوصلہ افزائی، ان کے مسائل کا حل اور مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد پوری قوت اور پختہ عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔ ان کے مطابق صوبے میں پائیدار امن کا قیام مشترکہ ذمہ داری ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

اجلاس میں اس مؤقف کا بھی اظہار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام خوارج اور ان کے سہولت کاروں کو مسترد کرتے ہیں۔ شرکا کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔

دریں اثنا، گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خطرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے صوبائی اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس آج طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں صوبے کے سیکیورٹی معاملات، دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بہتر بنانے سے متعلق امور زیرِ غور آنے کی توقع ہے۔

صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کے کردار کو اہمیت حاصل ہے۔ اجلاس میں ہونے والی مشاورت اور فیصلوں کے ذریعے صوبے میں سیکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے حتمی فیصلوں اور آئندہ اقدامات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی صورتِ حال مزید واضح ہوسکے گی۔