میڈیا رپورٹس کے مطابق اقرار الحسن کو رات تقریباً 3 بجے ان کے گھر سے لے جایا گیا۔ اہل خانہ کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کارروائی میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار شریک تھے، جبکہ ان کے ہمراہ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ خواتین اہلکاروں کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا نام درج تھا۔
اقرار الحسن کے ساتھ مختلف پروگراموں میں کام کرنے والے اینکر پرسن وسیم بادامی نے بھی ایک ویڈیو میں ان کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات ملنے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اقرار الحسن کو ان کی رہائش گاہ سے لے جایا گیا اور کارروائی کے دوران خواتین اہلکار بھی موجود تھیں۔
اقرار الحسن کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے اہل خانہ، ساتھیوں اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم اب تک دستیاب اطلاعات میں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ انہیں کس الزام کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور آیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے یا نہیں۔
اقرار الحسن پاکستان کے معروف ٹی وی اینکر رہ چکے ہیں اور صحافتی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ ہیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی گرفتاری کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ان کی موجودہ سرگرمیوں اور سیاسی کردار کے حوالے سے بھی عوامی دلچسپی پائی جاتی ہے۔
تاحال گرفتاری کی وجوہات، ممکنہ مقدمے، قانونی دفعات اور اقرار الحسن کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے بھی اس معاملے پر باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے، اس لیے گرفتاری کے پس منظر اور قانونی کارروائی کی نوعیت کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔







