اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی انتظامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادِ کار پر سوالات اٹھائے، صوبے میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مؤثر انداز میں متحرک کیوں نہیں کیا گیا، جبکہ کئی اضلاع میں سیف سٹی کیمروں کی تنصیب بھی مکمل نہیں ہو سکی اور پولیس کو جدید اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے بھی مسائل موجود رہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبائی معاملات اور سیکیورٹی سے متعلق ضروری اقدامات کو نظرانداز کرنے کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑے، دہشتگردی کے واقعات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہیں، لیکن صوبائی سطح پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ جب صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی تو عوام کے تحفظ کے لیے سخت قدم اٹھانا پڑا۔ عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جوڑا۔
عطا اللہ تارڑ نے صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت ملنے والے وسائل کے استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ وضاحت ہونی چاہیے کہ صوبے کو فراہم کیے جانے والے فنڈز کہاں خرچ ہوئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ اداروں کو جدید وسائل، بہتر تربیت اور مؤثر حکمت عملی فراہم کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی اور انتہا پسندی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ میں ملک نے ہزاروں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ معیشت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے عالمی امن کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا اور ان قربانیوں کے نتیجے میں خطے اور دنیا کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں حصہ لیا۔
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان مختلف عالمی اور علاقائی فورمز پر افغان حکام سے مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں اور پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کریں، افغانستان میں 20 ہزار سے زائد دہشتگرد موجود ہیں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 6 ہزار سے زیادہ عناصر شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشتگرد افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں اور وہاں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، کیونکہ ایک پُرامن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران تقریباً 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور مشکل حالات میں افغان عوام کی مدد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کے لیے کی جانے والی میزبانی اور تعاون دونوں ممالک کے عوام کے تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مختلف مواقع پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششیں بھی عالمی سطح پر سامنے آئیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے امن کے قیام اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پارٹی بانی سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے، تاہم دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی پر بات چیت بھی ضروری ہے، قومی سلامتی جیسے معاملات پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتفاقِ رائے پیدا کیا جانا چاہیے، کیونکہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کا تعاون اہم ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام محب وطن ہیں اور انہیں پُرامن ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی بحالی، دہشتگردی کی روک تھام اور عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ناگزیر ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔







