2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ان میں خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 جب کہ ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 27 خودکش دھماکے ہوئے اور مجموعی طور پر 5 ہزار 397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1235 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا، جب کہ 2597 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اس پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات کیوں ہو رہے ہیں، اور اس کی بنیادی وجہ Political–Criminal–Terror Nexus کو قرار دیا جو وہاں پنپ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوحا معاہدے کے تحت افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی تھی، مگر عملی طور پر افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا بیس آف آپریشن بنا ہوا ہے۔ کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

احمد شریف چودھری نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والی متعدد دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور وہیں سے آپریٹ کر رہی ہیں۔ عالمی سطح پر سرگرم القاعدہ، پاکستان کے خلاف بی ایل اے، انڈیا کی سرپرستی میں ڈی ٹی پی، فتنہ الخوارج، چین کے خلاف ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، وسطی ایشیا کے لیے آئی ایم یو اور ایران کے خلاف سرگرم تنظیمیں افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حال ہی میں شام میں انتظامی تبدیلی کے بعد تقریباً ڈھائی ہزار غیر ملکی دہشت گرد افغانستان منتقل ہوئے، جن میں کوئی بھی پاکستانی شامل نہیں تھا۔ افغان طالبان نے ان جنگجوؤں کو منظم کیا، بالخصوص ٹی ٹی پی کو تنظیمی ڈھانچہ، تربیت اور آپریشنل رہنمائی فراہم کی گئی، جب کہ ایک جھوٹا بیانیہ بھی تشکیل دیا گیا تاکہ بھرتی میں اضافہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اہم عنصر وار اکانومی بھی ہے۔ سیگار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اربوں ڈالر کے وسائل استعمال ہوئے اور جب یہ وسائل ختم ہوتے ہیں تو جنگی معیشت کو زندہ رکھنے کے لیے دہشت گردی کو پورے خطے میں پھیلایا جاتا ہے تاکہ نئے مالی معاونین تلاش کیے جا سکیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا دہشت گردوں کو مالی مدد، لاجسٹک سپورٹ اور سرپرستی فراہم کر رہا ہے۔ معرکۂ حق میں انڈیا کو واضح پیغام دیا گیا اور اسے سبق سکھانا ضروری تھا۔ معرکۂ حق اور افغانستان میں کارروائیوں کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا، تاہم ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ بزور طاقت جیتے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دہشت گردوں کے پاس جدید نائٹ وژن ڈیوائسز، لانگ رینج اسنائپر رائفلز، بلٹ پروف جیکٹس اور ایم فور و ایم سیریز کے جدید ہتھیار موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں اعلیٰ درجے کی ویپنائزیشن فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کے اندر سیاسی عمل کمزور کیا جاتا ہے تو اندرونی سہولت کاری بڑھتی ہے اور دہشت گردوں کو اسپیس ملتی ہے، جس کے نتیجے میں دوبارہ دہشت گردی کا بیانیہ سامنے آتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کی گئی کارروائیوں کے بعد ریاستِ پاکستان نے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے، چند گھنٹوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور سرحد بند کر کے واضح پیغام دیا گیا۔ ان اقدامات کے بعد دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاست پوری قوت سے کھڑی ہوتی ہے تو نتائج سامنے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو سراہا ہے اور ریاست کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔