وزیراعلیٰ بلوچستان آج صحبت پور پہنچے، جہاں انہوں نے بھاگ ناڑی میں دہشت گردوں سے مقابلے میں شہید ہونے والے ایس ایچ او لطف علی کھوسہ اور کانسٹیبل محمد اعظم کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔
سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے تعزیت، فاتحہ خوانی کی اور ان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایس ایچ او لطف علی کھوسہ اور ان کی ٹیم نے جرات، دلیری اور جوانمردی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ روایات کو زندہ رکھتے ہوئے پولیس افسران نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے 12 اضلاع میں خشک سالی کی شدت بڑھنے کا خدشہ کیوں بڑھ گیا؟
وزیراعلیٰ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کہ شہداء کے بچوں کے تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے گی،شہید ایس ایچ او کے بیٹوں کو بلوچستان پولیس میں ملازمت دی جائے گی،شہید ایس ایچ او لطف علی کھوسہ کے گھر تک بلیک ٹاپ سڑک تعمیر کی جائے گی اور گاؤں کے بیسک ہیلتھ یونٹ اور اسکول کو شہداء کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پولیس اور سیکیورٹی فورسز عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہیں اور حکومت ہر قدم پر ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھی پولیس کی حالیہ کارروائی پولیس کی بہتر کارکردگی کی واضح مثال ہے۔
وزیراعلیٰ نے عزم ظاہر کیا کہ بلوچستان میں امن و استحکام کا سورج ضرور طلوع ہوگا اور دہشت گردوں کو عبرتناک شکست ہوگی۔
گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے، جن میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے، تاکہ دہشت گردی اور جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔
اس موقع پر صوبائی وزیر لائیو اسٹاک سردارزادہ فیصل خان جمالی، پارلیمانی سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حاجی محمد خان لہڑی، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، آئی جی پولیس محمد طاہر خان، کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی، ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین اور دیگر مقامی افسران بھی موجود تھے۔







