پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردوں کی سر پرستی نا منظور ہے، سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اسکے خاتمے کے لئے ٹھوس اور یقینی اقدامات کرنے پڑیں گے۔


سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے برعکس طالبان کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر نظر آ رہا ہے۔ کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

  یہ ایجنڈا افغانستان، پاکستان اور خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں ہے، مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر ہے ۔


یادرہے کہ دفترِ خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ مذاکرات کے نتائج کو علاقائی امن کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا۔ مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کی۔ دوحہ معاہدے کے تحت سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کی بحالی پر اتفاق ہوا۔


پاکستان نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ان مسودہ قوانین کی سخت مذمت کی ہے، جن کے ذریعے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان نے اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اسلام آباد نے 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس الشریف کو دارالحکومت قرار دینے کے مؤقف کو دہرایا۔


ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی حالیہ مشاورتی رائے اسرائیل پر واضح کرتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالے اور فلسطینی عوام کو ضروری سہولیات فراہم کرے۔