نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے، ایسے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو واقعی عوام کو ریلیف دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم کب تک صوبے کے شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑے رکھیں گے؟‘
بیرسٹر عقیل ملک نے مزید بتایا کہ گورنر راج عام طور پر انتہائی ضرورت کے وقت نافذ کیا جاتا ہے اور صوبے کے حالات اس وقت اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں پنجاب میں بھی گورنر راج نافذ کرنے کا تجربہ ہو چکا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کیے جانے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئے گورنر کے لیے پانچ ناموں پر غور جاری ہے جن میں تین سیاسی شخصیات اور دو سابق فوجی افسران شامل ہیں۔
سیاسی شخصیات میں امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیر پاؤ اور پرویز خٹک کے نام زیر غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود کے نام بھی مضبوط امیدواروں میں شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود سابق آئی جی ایف سی جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی سابق کور کمانڈر پشاور رہ چکے ہیں۔







