وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام پانچویں اسلام آباد کانکلیو سے خطاب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایک منصفانہ، جامع اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام کا خواہاں ہے اور یہی وژن ہمیں عالمی فورمز پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی دنیا میں امن و استحکام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں تنازعات، بالخصوص مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں جاری جنگیں عالمی امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں، جب کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت انسانیت کے لیے سیاہ ترین باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ 92 گھنٹے کی انڈیا-پاکستان جھڑپ ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی تھی، لیکن پاکستان نے تحمل اور صلاحیت دونوں کا مظاہرہ کرکے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی مسابقت عالمی جغرافیائی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے، جب کہ موسمیاتی تبدیلی انسانیت کے وجود کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ جنوبی ایشیا اس کے اثرات شدید انداز میں جھیل رہا ہے جہاں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور موسمیاتی آفات خوراک و پانی کی قلت بڑھا رہی ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں غربت، عدم مساوات اور پسماندگی سب سے بڑے مسائل ہیں، جب کہ علاقائی تجارت افسوسناک حد تک کم ہے۔ سارک کو مصنوعی رکاوٹوں سے آزاد کرنا ہوگا تاکہ یہ علاقائی تعاون کا مؤثر پلیٹ فارم بن سکے۔
انہوں نے خطے میں اسلحے کی دوڑ، ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور انڈیاکی جانب سے آبی معاہدے سمیت متعدد اقدامات کی یکطرفہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پالیسیاں خطے کے امن کو براہِ راست خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، انڈین پراکسی فتنہ الخوارج کے سات دہشت گرد ہلاک
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مئی 2025 کا انڈیا-پاکستان بحران ظاہر کرتا ہے کہ خطے میں امن برقرار رکھنا محض اسٹریٹجک استحکام سے ممکن نہیں، بلکہ جموں کشمیر کے دیرینہ تنازعے کا منصفانہ حل اس کے بغیر ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم ہمیشہ اسی کشمکش اور تصادم میں پھنسے رہیں گے یا آگے بڑھ کر دنیا کے ساتھ قدم ملا کر ترقی کریں گے۔
تقریب کے اختتام پر وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ دو روزہ کانکلیو میں ہونے والی بحث و مباحثہ خطے کے مستقبل کے لیے ٹھوس تجاویز سامنے لائے گا اور جنوبی ایشیا کے نئے تصور کی بنیاد رکھے گا۔







