وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کر رہے ہیں۔مذاکرات کا مرکزی محور افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کی روک تھام اور پاک–افغان سرحد پر دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ افغان طالبان بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں اور ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور مؤثر کارروائی کریں۔
پاکستان نے مذاکرات کے لیے قطر کے ثالثی کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ دوحہ میں ہونے والی یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن و استحکام کا باعث بنے گی۔
ادھر افغان ذرائع کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت کا وفد بھی دوحہ پہنچ چکا ہے، جس کی قیادت وزیر دفاع ملا یعقوب کر رہے ہیں۔
یہ مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب پاک–افغان سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی میں عارضی توسیع پر اتفاق کیا تھا۔
A high-level delegation from Pakistan, led by our Minister of Defence, will hold discussions with representatives of the Afghan Taliban in Doha today. The talks will focus on immediate measures to end cross-border terrorism against Pakistan emanating from Afghanistan and restore…
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) October 18, 2025
تاہم اس دوران افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر الزام عائد کیا کہ پاکستان نے پکتیکا میں فضائی کارروائیاں کیں، جن میں مبینہ طور پر کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اس کارروائی کو افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتی ہے اور جوابی ردعمل کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
حکومت پاکستان نے یا فوجی قیادت کی جانب سے اس واقعے پر فلحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قریب افغان علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر درستگی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوحہ میں ہونے والی یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
دورسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان دشمن گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے، جب کہ کابل حکومت پاکستان پر علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔







