سرکاری ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں علاقائی و عالمی صورتحال، امن و سلامتی اور باہمی تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقاتوں کا ماحول خوشگوار اور دوستانہ رہا۔
وزیرِاعظم نے بحرین کے فرمانروا شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، اقتصادی شراکت داری، خطے کی مجموعی صورتحال اور عالمی امن کے فروغ سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔
وزیرِاعظم واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر اجلاس میں شریک ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فورم میں پاکستان کی شرکت غزہ میں امن کے قیام اور تعمیرِ نو کی کوششوں کے لیے پاکستان کے مؤقف اور سفارتی کردار کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اسے عالمی سطح پر پاکستان کے فعال کردار کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔







