پنجاب محکمہ آبپاشی کے ایک سینئر افسر کے مطابق اس وقت دریائے چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، تاہم اگلے تین سے چار روز کے دوران مقبوضہ کشمیر اور پنجاب میں متوقع موسلادھار بارشوں کے باعث پانی کا بہاؤ بڑھ کر اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پیش گوئی کے مطابق کیچمنٹ علاقوں میں شدید بارشیں ہوئیں تو سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 24 جولائی تک جاری رہنے والی شدید بارشوں کے باعث دریائے چناب، دریائے جہلم اور دیگر اہم دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔
ایف ایف ڈی کے مطابق مغربی ہواؤں کے سلسلے اور بحیرہ عرب و خلیج بنگال سے آنے والے طاقتور مون سون سسٹم کے باعث دریائے چناب کے مقام مرالہ، دریائے جہلم کے بالائی علاقوں اور ان سے منسلک متعدد برساتی نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ اسی طرح دریائے کابل اور اس کی معاون ندیوں میں بھی پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے ڈی جی خان کے پہاڑی نالوں، خیبر پختونخوا اور شمالی بلوچستان میں فلیش فلڈ جبکہ راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور فیصل آباد میں شہری سیلاب کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق اس وقت دریائے سندھ مختلف مقامات پر کم سطح پر بہہ رہا ہے، جبکہ دریائے جہلم منگلا اور رسول کے مقام پر کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کی کیفیت میں ہے۔ دریائے چناب مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی سطح پر بہہ رہا ہے، جبکہ دریائے راوی اور ستلج میں پانی کی سطح معمول سے کم ہے۔
مزید پڑھیں: فیسکو میں مبینہ 12 ارب روپے کرپشن کیس، دو سابق سی ای او گرفتار
ادھر واپڈا کی روزانہ پانی کی رپورٹ کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 32 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 10 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 57 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 10 ہزار کیوسک رہا۔






