وزارت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مرالہ کے مقام پر دریائے چناب کے بہاؤ کی سرکاری سطح پر مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، جہاں 10 سے 16 دسمبر کے دوران پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ 870 کیوسک تک گر گیا تھا، جو گزشتہ 10 برسوں کی کم ترین سطح تھی، جب کہ سیٹلائٹ تصاویر میں بگلیہار ریزروائر کے رقبے میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
وزارتِ آبی وسائل کے مطابق پاکستان نے یہ معاملہ انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے انڈیا کے سامنے اٹھایا اور وضاحت طلب کی، کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا دریاؤں کے بہاؤ میں یکطرفہ مداخلت بند اور عالمی قوانین کی پاسداری کرے، پاکستان
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ 17 دسمبر سے دریائے چناب میں پانی کی سطح میں بہتری آنا شروع ہوئی اور بہاؤ بڑھ کر 6 ہزار 399 کیوسک تک پہنچ گیا، جب کہ 19 دسمبر کو پانی کا بہاؤ تاریخی حد کے اندر ریکارڈ کیا گیا۔
وزارت نے واضح کیا کہ دریائے چناب کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی اور پاکستان کمشنر برائے انڈس واٹر کے علاوہ دیگر ذرائع سے فراہم کی جانے والی معلومات کو غیر مستند سمجھا جائے، جن سے گریز ضروری ہے۔






