فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا جہاں آمد پر کور کمانڈر کوئٹہ نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا بھی دورہ کیا اور زیرِ تربیت افسران، فیکلٹی ممبران اور سینئر فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

آرمی چیف  نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں خطاب کرتے ہوئے ادارے کے اعلیٰ تربیتی معیار، پیشہ ورانہ مہارت اور افسران کی صلاحیتوں کو سراہا، جدید جنگی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے افواجِ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی، ملٹی ڈومین آپریشنز اور تینوں مسلح افواج کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پر بھرپور توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسٹاف کالج کے فارغ التحصیل افسران ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قائدانہ کردار اور غیرمعمولی کارکردگی کی بدولت نمایاں رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے افسران پر زور دیا کہ وہ بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنی اور اپنے جوانوں کی مسلسل تربیت یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

خطاب کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جدید جنگ کے بدلتے ہوئے انداز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی جنگ صرف روایتی میدانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سائبر، اطلاعاتی اور نفسیاتی محاذ بھی غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں، دشمن عناصر جھوٹے بیانیے، جعلی خبروں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کے امن اور ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایسی تمام سازشیں عوام اور ریاست کے اتحاد کے سامنے ناکام ہوں گی۔

دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں تعینات فارمیشنز کے افسران اور جوانوں سے بھی ملاقات کی اور صوبے میں امن و استحکام کیلئے ان کی قربانیوں، بلند حوصلے اور پیشہ ورانہ عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا، بلوچستان پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے اور اس کے امن، ترقی اور خوشحالی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ’ اشتعال انگیز، متکبرانہ اور جنگی جنون کا عکاس‘، پاکستان فوج کا انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل

چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا کہ مسلح افواج عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی، پراکسی جنگ اور منفی پروپیگنڈا پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔

 عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور ترقی صرف مضبوط سکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ عوام دوست پالیسیوں، بہتر طرزِ حکمرانی اور سماجی و معاشی ترقی سے ممکن ہے۔ انہوں نے بلوچستان حکومت کی عوامی فلاح، سماجی بہتری اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار میسر ہو اور عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جائے۔ فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر جاری رہے گا اور دشمن قوتیں ہر محاذ پر ناکامی سے دوچار ہوں گی۔