ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق ملزم نے واردات میں سرکاری گاڑی اور ذاتی پستول استعمال کیا اور شواہد مٹانے کی بھرپور کوشش کی۔ پولیس کو ملزم کی مشکوک حرکات پر پہلے ہی شبہ ہو گیا تھا، جب کہ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ عثمان حیدر کے نام پر 6 موبائل نمبر رجسٹرڈ تھے، جن کا فارنزک تجزیہ کیا گیا۔
ذیشان رضا نے واضح کیا کہ یہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو اس جواز کے تحت فائدہ اٹھانے دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے دو شادیاں کر رکھی تھیں اور اس نے خود ہی اپنی بیوی اور بیٹی کے اغوا کا مقدمہ تھانہ برکی میں درج کروایا، بعد ازاں اکیلے ہی قتل کر کے لاشوں کو مختلف مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزم کی بیٹی کی لاش کاہنہ جب کہ اہلیہ کی لاش ضلع شیخوپورہ سے برآمد کر لی گئی ہے۔ دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی ایس پی عثمان حیدر نے دورانِ تفتیش اپنی بیوی اور بیٹی کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ملزم نے تقریباً ایک ماہ قبل اہلیہ اور بیٹی کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروائی تھی، تاہم تفتیش کے دوران کیس کا رخ یکسر بدل گیا۔







