حکومت کے مطابق یہ قانون 27ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی کمانڈ کے نئے نظام کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری تھا، جب کہ اپوزیشن نے بلوں کو عجلت میں منظور کرنے پر شدید احتجاج کیا اور ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔

لیکن آخر یہ بل ہے کیا؟ اس سے پاکستان کے دفاعی اور عسکری کمانڈ سسٹم میں کیا تبدیلی آئے گی؟ اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا نیا کردار کیا ہوگا؟

ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کیا ہے؟

ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 بنیادی طور پر پاکستان کے نئے عسکری کمانڈ اسٹرکچر کو قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہ قانون 13 نومبر 2025 سے مؤثر تصور کیا جائے گا۔

قانون کے تحت ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا، جو مسلح افواج کے مشترکہ ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرے گا۔

یہ ہیڈکوارٹر قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق معاملات میں وزیراعظم کے سینئر فوجی مشیر کے طور پر کردار ادا کرے گا۔ اس نئے نظام میں سب سے اہم عہدہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا ہے۔

سی ڈی ایف کو کیا اختیارات حاصل ہوں گے؟

ڈیفنس فورسز ایکٹ کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی آپریشنل کمانڈ اور کنٹرول حاصل ہوگا۔ یعنی تینوں سروسز (بری فوج، بحریہ اور فضائیہ) کے درمیان مشترکہ آپریشنل رابطے اور کوآرڈینیشن میں سی ڈی ایف مرکزی کردار ادا کرے گا۔

سی ڈی ایف کو مسلح افواج کے درمیان مشترکہ آپریشنل کوآرڈینیشن کا اختیار ہوگا۔ مختلف شعبوں میں فوجی انضمام اور مشترکہ کارروائیوں کی نگرانی کرسکے گا۔ متعلقہ قوانین کے تحت فوجی اہلکاروں کو ریٹائر، ریلیز یا برطرف کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

ان کے علاوہ استعفے منظور یا مسترد کرسکے گا۔ بعض اہلکاروں کو سروس میں برقرار رکھ سکے گا۔ کسی فرد کی ریٹائرمنٹ عمر یا مقررہ مدتِ ملازمت میں کمی کرسکے گا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی دیگر ذمہ داریاں اور اختیارات بھی استعمال کرسکے گا۔ البتہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مقرر کیے جانے والے عہدیدار اس اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کہاں گیا؟

یہ تبدیلی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سامنے آئی۔ نئے عسکری کمانڈ فریم ورک میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔

اس کے بعد نئے نظام میں چیف آف آرمی اسٹاف ہی بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز کے طور پر خدمات انجام دے گا۔ اسی تبدیلی کو قانونی شکل دینے کے لیے ڈیفنس فورسز ایکٹ لایا گیا ہے۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں کیا بدلا؟

دوسرا اہم قانون نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 ہے۔ اس ترمیم کے تحت نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2010 میں موجود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے حوالوں کو ختم کرکے ان کی جگہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے حوالے شامل کیے گئے ہیں۔

یہ ترمیم بھی 27 نومبر 2025 سے مؤثر تصور کی جائے گی۔ یعنی این سی اےکے قانونی ڈھانچے کو بھی نئے عسکری کمانڈ سسٹم کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔

نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کیا ہے؟

27ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک اور اہم عہدہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا سامنے آیا۔ اس عہدے پر وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر تقرری کرسکتے ہیں۔

کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی مدت تین سال ہوگی، جب کہ وزیراعظم سی ڈی ایف کی سفارش پر اسے مزید ایک تین سالہ مدت کے لیے دوبارہ مقرر کرسکتے ہیں۔ اس تقرری، دوبارہ تقرری یا مدت میں توسیع کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 24 جولائی کو لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو چار اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا تھا۔

تینوں افواج کی کمانڈ میں کیا فرق آئے گا؟

نئے نظام کا بنیادی مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان مشترکہ کمانڈ، آپریشنل رابطے اور کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانا ہے۔ یعنی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ اپنی اپنی سروس کمانڈ برقرار رکھتے ہوئے ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک کے تحت زیادہ مربوط انداز میں کام کریں گی۔

اس نظام میں سی ڈی ایف کو مشترکہ آپریشنز اور دفاعی معاملات میں مرکزی کردار حاصل ہوگا۔

اپوزیشن نے مخالفت کیوں کی؟

حکومت نے بلز کو پارلیمنٹ کے سپلیمنٹری ایجنڈے کے تحت پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے اعتراض کیا۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ ارکان کو بلز کا مطالعہ کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسی کیا ہنگامی صورتحال تھی کہ قانون سازی اتنی عجلت میں کی گئی۔ محمود خان اچکزئی نے بھی مطالبہ کیا کہ ارکان کو کم از کم دو سے تین دن دیے جائیں تاکہ وہ بلز کا جائزہ لے کر اپنی رائے دے سکیں۔

اس احتجاج کے بعد اپوزیشن ارکان نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

دوسری جانب قانون وزیر اعظم نذیر تارڑ نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی قواعد کے تحت سپلیمنٹری ایجنڈے کے ذریعے قانون سازی پیش کی جاسکتی ہے۔ بل پہلے ہی قومی اسمبلی سے منظور ہوچکے ہیں اور ارکان نے انہیں تفصیل سے پڑھا تھا۔

پارلیمنٹ نے کیا منظور کیا؟

قومی اسمبلی اور سینیٹ نے ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 منظور کرلیے ہیں۔ ان قوانین کا بنیادی مقصد 27ویں آئینی ترمیم کے بعد وجود میں آنے والے نئے عسکری کمانڈ سسٹم کو قانونی اور انتظامی بنیاد فراہم کرنا ہے۔

مختصراً نئے فریم ورک میں سی جے سی ایس سی کا عہدہ ختم، سی ڈی ایف کا عہدہ مرکزی، ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کا قیام اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ کے قانونی ڈھانچے کو نئے کمانڈ سسٹم کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔

یوں یہ قانون محض ایک انتظامی ترمیم نہیں بلکہ پاکستان کے عسکری کمانڈ اسٹرکچر میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو عملی اور قانونی شکل دینے والا فریم ورک ہے۔