محسن نقوی کے بیان کے مطابق اختلاف کی اصل جڑ انسدادِ دہشت گردی اور وفاق-صوبہ سیکیورٹی تعاون سے متعلق تھی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ابتدائی طور پر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت اور عبوری افغان حکومت سے لاتعلقی جیسے نکات پر اتفاق کیا تھا، مگر آخری مرحلے میں ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
یہ وہی نکتہ ہے جو پاکستان-افغانستان تعلقات کی موجودہ کشیدگی سے جڑا ہوا ہے، گذشتہ سال استنبول میں ہونے والے پاک-افغان مذاکرات بھی ناکام ہو چکے ہیں، اور خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت افغانستان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی خواہاں رہی ہے، جسے وفاق اپنا اختیار سمجھتا ہے۔ یوں سیکیورٹی پالیسی کا یہ اختلاف دراصل وفاق اور صوبے کے درمیان اختیارات کی ایک پرانی کشمکش کا تسلسل ہے۔
اس پورے منظرنامے میں پی ٹی آئی کے اندر موجود اختلافِ رائے بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ ’بے اختیار لوگوں سے مذاکرات کا فائدہ نہیں‘ یعنی ان کے نزدیک حکومتی مذاکراتی ٹیم کے پاس حتمی فیصلے کا اختیار ہی موجود نہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ ’ہمارے پاس آخری راستہ بھی ہے، اس پر غور کیا جا رہا ہے۔‘ ایک ایسا جملہ جو سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
شوکت یوسفزئی کے آنسو ابھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا شکوہ سامنے آگیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ان کے علاقے میں دفعہ 144 لگا کر ڈی آئی خان سے نکلنے نہیں دیا۔ پارٹی میں خلیج بڑھ رہی ہے۔ بات چیت اور مفاہمت کے حامیوں پر جذباتی گروہ حاوی دکھائی دیتا ہے۔
سہیل آفریدی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کردیا ہے اور وفاقی حکومت نے اسے روکنے کا پہلے ہی ’بندوبست‘ کرلیا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کو تیار رہنے کا پیغام بھی مل گیا ہے۔
محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ حکومت احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے مگر ’اسلام آباد پر دھاوا بولنے‘ کی اجازت نہیں دے گی، اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے دوران کسی بھی نقصان کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر عائد ہو گی ۔ ایک ایسا بیان جو تصادم کی صورت میں ذمہ داری پہلے سے طے کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ حکومت نے 9 مئی جیسے واقعے کے دوبارہ نہ ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے، جو ماضی کے تجربات کی روشنی میں حکومتی حکمتِ عملی کا ایک بنیادی ستون معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اس طرح کے بیانات اکثر دونوں طرف کے مؤقف کو مزید سخت کر دیتے ہیں، کیونکہ ’ذمہ داری کا تعین‘ پہلے سے کر دینا مذاکرات کی گنجائش کم کر دیتا ہے۔
اس پورے پس منظر میں وہ سوالات دوبارہ اہم ہو جاتے ہیں جو آئین کے حصہ دہم سے متعلق ہیں۔ اگر خیبرپختونخوا میں حالات اس نہج پر پہنچیں کہ وفاق یہ سمجھے کہ صوبائی حکومت ’آئین کے مطابق نہیں چل سکتی‘ یا اندرونی بدامنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو چکی ہے، تو آئین دو راستے فراہم کرتا ہے:
آرٹیکل 232 کے تحت جنگ یا اندرونی خلفشار کی بنیاد پر ایمرجنسی، جس کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد یا دس دن میں پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
آرٹیکل 234 کے تحت ’گورنر راج‘، جس میں گورنر کی رپورٹ پر صدر صوبائی حکومت کے اختیارات سنبھال سکتا ہے، تاہم اس کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک محدود ہے۔
محسن نقوی کا بیان کہ ’صوبہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے اور سیکیورٹی کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔‘ ایسی زبان ہے جو مستقبل میں کسی آئینی اقدام کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سہیل آفریدی کا ’آخری راستے‘ کا ذکر بھی غیر یقینی کی اسی فضا کو بڑھاتا ہے۔ تاہم یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد گورنر راج لگانا آسان نہیں رہا۔ گورنر کی رپورٹ لازمی ہے اور "یا کسی اور ذریعے" (or otherwise) کا متبادل راستہ ختم کیا جا چکا ہے۔
موجودہ صورتحال میں دو امکانات نمایاں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ معاملہ ماضی کی طرح ایک اور ’مذاکرات۔ناکامی۔احتجاج‘ کے چکر میں رہے گا، جس میں بالآخر دونوں فریق دباؤ کم کرنے کے لیے دوبارہ میز پر آ جائیں گے۔ دوسرا اور زیادہ تشویشناک امکان یہ ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان سیکیورٹی تعاون پر عدم اعتماد اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ حکومت آئینی اقدامات کی طرف دیکھنا شروع کر دے، خاص طور پر اگر لانگ مارچ کے دوران کوئی بڑا پرتشدد واقعہ پیش آیا۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا دونوں فریق سیکیورٹی تعاون جیسے حساس معاملے کو سیاسی مذاکرات سے الگ رکھ کر صرف انتظامی سطح پر حل کر سکتے ہیں، یا یہ معاملہ بھی مکمل طور پر سیاسی بیان بازی کی نذر ہو جائے گا جیسا کہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے۔ جب تک وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان اعتماد کا یہ فقدان برقرار ہے، لانگ مارچ کا ہر اعلان اور ہر مذاکراتی دور نئے سرے سے وہی بحران دہرانے کا خطرہ لیے ہوئے ہے۔







